کتاب: انکارِحدیث کا نیا روپ جلد 1 - صفحہ 363
’’قرآن کے خلاف ہونا یہ ہے کہ قرآن ایک چیز کا حکم دے اور حدیث اس سے منع کرے یا اس کے برعکس قرآن منع کرے اور حدیث اس کا حکم دے۔ ایسی کوئی مثال کسی صحیح حدیث میں نہیں پائی جاتی۔‘‘ [1]
اور نسخ قرآن کے متعلق لکھتے ہیں:
’’بلاشبہ فقہاء کا ایک گروہ اس بات کا قائل ہے کہ سنت قرآن کی ناسخ اور اس پر قاضی ہے، لیکن اس کا مطلب وہ نہیں ہے جو الفاظ سے متبادر ہوتا ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریح سے قرآن کا ایک خاص حکم عام ہو سکتا ہے، بالکل اسی طرح آپ کی قولی یا عملی تشریح یہ بھی بتاتی ہے کہ کسی خاص آیت کا حکم باقی نہیں رہا ہے۔ اس مفہوم کے علاوہ اگر اس اصول سے کوئی دوسرا مفہوم اخذ کیا گیا ہے تو وہ صحیح نہیں ہے۔‘‘ [2]
اسی ضمن میں مزید فرماتے ہیں:
’’میرے نزدیک قرآن میں ایسی کوئی آیت نہیں ہے جو منسوخ التلاوۃ ہو اور بس اس کا حکم باقی ہو۔ آیت رجم جس کا ذکر بعض روایات میں آیا ہے، دراصل ایک دوسری کتاب اللہ یعنی تورات کی آیت تھی، نہ کہ قرآن کی۔ اس آیت کے نسخ سے مراد یہ ہے کہ جس کتاب میں یہ آیت تھی اس کتاب کو تو منسوخ کر دیا گیا مگر اس کے رجم کے حکم کو باقی رکھا گیا۔‘‘ [3] – فَإِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
[1] رسائل و مسائل: 3/238 بحوالہ ترجمان القرآن مجریہ ماہ فروری 1961ء
[2] ترجمان القرآن مجریہ ماہ جون 1954ء، رسائل و مسائل 2/107-108
[3] رسائل و مسائل 2/107-108