کتاب: انکارِحدیث کا نیا روپ جلد 1 - صفحہ 362
آگے چل کر جناب اصلاحی صاحب فرماتے ہیں: ’’ماعز بن اسلمی کے واقعہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تحقیق میں جو اس قدر جز رسی سے کام لیا کہ فقہاء نے اس سے یہ حکم نکالا ہے کہ مجرم کی تحقیق میں عریاں زبان استعمال کی جا سکتی ہے تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ لفظ ’’زنا‘‘ کے عموم سے جو اشتباہ پیدا ہو سکتا ہے وہ دور ہو جائے اور یہ لفظ اپنے اس مفہوم میں متعین ہو جائے جو اس کو اصل سزا کا مستحق بناتی ہے۔‘‘ [1] ان سطور میں جناب اصلاحی صاحب نے حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کو ’’ماعز بن اسلمی‘‘ بتایا ہے حالانکہ تمام کتب حدیث و سیر کی روشنی میں ’’اسلمی‘‘ حضرت ماعز رضی اللہ عنہ کی ولدیت نہیں بلکہ ’’مالک‘‘ آپ کی ولدیت تھی، قبیلہ اسلم سے نسبت ہونے کے باعث انہیں ماعز اسلمی کہا جاتا ہے [2] – یہ ہے جناب اصلاحی صاحب کی کوتاہ علمی کی ایک زندہ مثال۔ اگرچہ ہماری گفتگو یہیں پر ختم ہو جاتی ہے لیکن قبل از اختتام قرآن و حدیث کے خصوصی تعلق (مثلاً تخصیص عموم قرآن، قرآن سے زائد احکام پر مشتمل احادیث، صحیح احادیث کا خلاف قرآن نہ ہونا وغیرہ) اور نسخ قرآن سے متعلق جناب سید ابو الاعلی مودودی صاحب کے افکار و نظریات بھی (بلا تبصرہ) پیش خدمت ہیں۔ ان افکار و نظریات کی صحت و عدم صحت کا فیصلہ قارئین محترم مذکورہ بالا تفصیل کی روشنی میں خود بخود کر سکتے ہیں، فرماتے ہیں: ’’آپ کی یہ بات بھی صحیح نہیں ہے کہ وہ ہر چیز جو قرآن سے زائد یا اس کے بیان سے مختلف حدیث میں نظر آئے وہ لازماً قرآن کے خلاف ہے اس لئے اسے رد کر دینا چاہیے۔ قرآن میں اگر کوئی حکم عموم کے انداز میں بیان ہوا ہو اور حدیث یہ بتائے کہ اس حکم عام کا اطلاق کن خاص صورتوں پر ہوتا ہے تو یہ قرآن کے حکم کی نفی نہیں ہے بلکہ اس کی تشریح ہے۔ اس تشریح کو اگر آپ قرآن کے خلاف ٹھہرا کر رد کر دیں گے اور ہر حکم عام کو اس کے عموم ہی پر رکھنے کے لئے اصرار کریں گے تو اس سے بے شمار قباحتیں پیدا ہوں گی الخ۔‘‘ [3] اور فرماتے ہیں: ’’قرآن میں کسی حکم کا نہ ہونا اور حدیث میں ہونا صرف یہ معنی رکھتا ہے کہ حدیث قرآن سے زائد ایک حکم بیان کرتی ہے نہ یہ کہ حدیث قرآن کے مخالف حکم دے رہی ہے الخ۔‘‘ [4] ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
[1] مبادئ تدبر حدیث، ص: 46 [2] الاصابة في تمييز الصحابة لابن حجر 3/317، الاستيعاب للقرطبي علي هوامش الإصابة 3/418 وغیرہ [3] رسائل و مسائل للمودودی 2/60 [4] نفس مصدر 3/238