کتاب: انکارِحدیث کا نیا روپ جلد 1 - صفحہ 361
کی طرف رجحان کی علامت نہ سمجھا جائے؟ کیونکہ بقول عبدالقاہر بغدادی:
’’صرف معتزلہ ہی قانون اسلامی کے ماخذ میں سے حدیث اور اجماع کو قریب قریب ساقط کر دیتے تھے۔‘‘ [1]
ذیل میں ہم رجم کی سزا کے لئے فقط ’’احصان‘‘ کا شرط ہونا مزید دلائل سے واضح اور مؤکد کرنے کی کوشش کرتے ہیں:
1- حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے واقعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا تھا کہ ’’کیا تو شادی شدہ ہے؟‘‘ انہوں نے جواب دیا:
ہاں! تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا تھا پس وہ مصلی میں سنگسار کئے گئے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
’’قَالَ أَحْصَنْتَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ بِالْمُصَلَّى‘‘ [2]
پس معلوم ہوا کہ یہاں مناط حکم صرف ’’احصان‘‘ ہے
2- ایک حدیث میں بصراحت مروی ہے: ’’ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ‘‘ یعنی کسی مسلم کا خون حلال نہیں ہے بجز ان تین باتوں میں سے کسی ایک بات کے۔‘‘ اور ان تین باتوں میں سے ایک ’’الثيب الزاني‘‘ یعنی ’’زنا بعد احصان‘‘ بھی ہے [3] – پس یہاں بھی مناط حکم احصان ہی ہوا۔
3- شریعت میں کسی زانی کی حد رجم کے لئے بیان کی گئی فقہاء کی سات [4] شرائط میں سے جن چار شرائط پر اجماع ہے وہ یہ ہیں: عقل، بلوغت، حریت اور نکاح صحیح کی اصابت۔ [5]
اس موضوع پر مزید تفصیلات کے لئے راقم کا مفصل مضمون ’’فراہی مکتب فکر اور بعض احادیث رجم کی غلط تعبیر و تشریح‘‘[6]مقالات عزیری [7]، ’’عظمت حدیث‘‘[8]اور ’’حد رجم کی شرعی حیثیت اور شبہات و مغالطات کا جائزہ‘‘[9]وغیرہ کی طرف مراجعت مفید ہو گی۔
[1] الفرق بین الفرق لعبد القاہر، ص: 138-139، مطبعۃ المعارف مصر
[2] سنن ابی داؤد مع عون المعبود 4/256، جامع الترمذی مع تحفۃ الاحوذی 2/320-321 و أخرجہ الشیخان ایضاً
[3] صحیح البخاری مع فتح الباری 12/201، صحیح مسلم کتاب القسامہ ابواب: 25، 26، سنن ابی داؤد مع عون المعبود 4/222-223، جامع الترمذی مع تحفۃ الاحوذی 2/330، سنن النسائی کتاب التحریم ابواب: 5، 11، 14، سنن الدارمی کتاب السیر باب: 11 مسند احمد 1/61، 63، 65، 428، 444، 465، 6/181، 214
[4] المغنی لابن قدامہ 8/161-163
[5] شرح السنہ للبغوی و عون المعبود 4/251
[6] مطبوع در ماہنامہ ’’محدث‘‘ بنارس ج 5 عدد 9-12 ج 6 عدد 1 مجریہ ماہ ستمبر 1987ء تا جنوری 1988ء
[7] مجموعہ مقالات عزیری (مخطوط) 1/5، 31
[8] عظمت حدیث مؤلفہ عبدالغفار حسن، ص: 216، 236
[9] حد رجم کی شرعی حیثیت مؤلفہ حافظ صلاح الدین یوسف طبع لاہور