کتاب: انکارِحدیث کا نیا روپ جلد 1 - صفحہ 306
شہر بن حوشب کے تفصیلی ترجمہ کے لئے حاشیہ[1] کے تحت مذکورہ کتب کی طرف مراجعت مفید ہو گی۔
3- حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کی تخریج
ابن ماجہ نے اپنی ’’سنن‘‘[2](الوصایا) میں بطريق هشام بن عمار عن محمد بن شعيب عن عبدالرحمٰن بن يزيد عن سعيد عن أنس عن النبي صلي اللّٰه عليه وسلم قال: ’’إِنَّ اللّٰه قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ‘‘ فرمائی ہے۔ صاحب ’’التنقیح‘‘ کا قول ہے کہ حضرت انس کی یہ حدیث ابن عساکر اور علامہ مزی نے ’’الأطراف‘‘ میں سعید المقبری کے ترجمہ میں ذکر کی ہے۔ لیکن یہ خطاء ہے، یہ سعید المقبری نہیں بلکہ سعید الساحلی ہے کہ جس کے ساتھ احتجاج درست نہیں ہے۔ اس روایت کو ولید بن مزید البیروتی نے عن عبدالرحمٰن بن يزيد بن جابر بن سعيد بن ابي سعيد شيخ بالساحل قال حدثني رجل من أهل المدينة قال: إني لتحت ناقة رسول اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم فذكر الحديث کے سلسلہ سے روایت کی ہے۔‘‘ [3]
اس حدیث کی تخریج امام بیہقی نے ’’السنن الکبریٰ‘‘ [4] میں اور امام دارقطنی نے اپنی ’’سنن [5](کتاب الفرائض)‘‘ میں بھی کی ہے، بوصیری نے ’’مصباح الزجاجۃ‘‘[6]میں اس کی سند کو ’’صحیح‘‘ اور اس کے تمام رواۃ کو ’’ثقہ‘‘ قرار دیا ہے۔ علامہ ابن الترکمانی نے بھی ’’الجوہر النقی‘‘ میں اس سند کو ’’جید‘‘ بتایا ہے، مگر بوصیری اور ابن ترکمانی کے مذکورہ اقوال اسی وقت درست ہو سکتے ہیں جبکہ سعید بن ابی سعید، ’’المقبری‘‘ ہو۔ دارقطنی رحمہ اللہ کے ایک طریق میں سعید الساحلی ہونے کی صراحت موجود ہے۔ اور سعید بن ابی سعید الساحلی کے متعلق حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ’’مجہول‘‘ ہے۔ [7] پس اگر یہ راوی سعید الساحلی ہو تو اصلاً یہ طریق ناقابل
[1] تاریخ یحییٰ بن معین 2/260، التاریخ الکبیر للبخاری 4/258، الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم 4/382، الکامل فی الضعفاء لابن عدی 4/1354، میزان الاعتدال للذہبی 2/283، الضعفاء والمتروکین للنسائی 294، الضعفاء والمتروکین لابن الجوزی 2/43، الضعفاء الکبیر للعقیلی 2/191، المجروحین لابن حبان 1/361، تہذیب تاریخ دمشق لابن عساکر 6/346، معرفۃ الثقات للعجلی 1/462، سیر اعلام النبلاء للذہبی 4/347، معرفۃ الرواۃ للذہبی، ص: 118، تقریب التہذیب لابن حجر 1/355، تہذیب التہذیب لابن حجر 4/369، سنن الدارقطنی 1/103، 104، فتح الباری لابن حجر 6/325، 11/202، 203، نصب الرایہ للزیلعی 1/18، 2/372، 475، 4/15، 189، مجمع الزوائد للہیثمی 1/27، 54، 184، 213، 3/125، 168، 181، 4/51، 217، 294، 5/147، 261، 6/228، 10/63، 64، 221، 240، تحفۃ الاحوذی للمبارکفوری 1/47، 96، 183، 270، قانون الموضوعات والضعفاء للفتنی، ص؛ 262، 263 وغیرہ
[2] سنن ابن ماجہ، ص: 199
[3] نصب الرایہ للزیلعی 4/404
[4] سنن الکبریٰ للبیہقی 6/264-265
[5] سنن الدارقطنی 2/454-455
[6] مصباح الزجاجۃ للبوصیری: 964
[7] تقریب التہذیب لابن حجر 1/297، تہذیب التہذیب لابن حجر 4/39