کتاب: انکارِحدیث کا نیا روپ جلد 1 - صفحہ 266
حدیث بالا میں مذکورہ تینوں مواضع کے علاوہ مصلحت کے متقاضی ہونے کی صورت میں کذب کو جائز قرار دیا ہے، ان کا کہنا یہ ہے کہ کذب مذموم وہ ہے جس میں مضرت پائی جاتی ہو۔ یہ لوگ حضرات ابراہیم و یوسف علیہما السلام کے اقوال سے استدلال کرتے ہیں۔ ان کا قول ہے کہ اس بارے میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اگر کوئی ظالم شخص کسی کو قتل کرنے کا قصد کر لے تو اس پر جھوٹ بول کر اپنی جان بچانا واجب ہے۔ بعض دوسرے علماء مثلاً طبری وغیرہ کا قول ہے کہ کذب اصلاً کسی بارے میں بھی جائز نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کی اباحت کے بارے میں جو کچھ وارد ہے اس سے مراد توریہ و معاریض کا استعمال ہے نہ کہ صریح کذب، اور اس کا حاصل یہ ہے کہ ایسے کلمات ادا کرے جس سے مخاطب، متکلم کے اصل مطلب کو سمجھنے کے بجائے وہ مطلب سمجھے جو اس کا منشا نہیں ہے۔ یہ معاریض مباح ہیں، پس یہ تمام وقائع جائز و درست ہیں۔ ان علماء نے حضرت ابراہیم اور حضرت یوسف علیہما السلام کے قصص کی معاریض کے اسی طریقہ پر تاویل کی ہے۔‘‘ [1] حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ ابن عقیل سے نقل فرماتے ہیں: ’’دلالة العقل تصرف ظاهر إطلاق الكذب علي ابراهيم و ذلك أن العقل قطع بأن الرسول ينبغي أن يكون موثوقا به ليعلم صدق ما جاء به عن الله، ولا ثقة مع تجويز الكذب عليه فكيف مع وجود الكذب منه و إنما أطلق عليه ذلك لكونه بصورة الكذب عند السامع و علي تقديره فلم يصدر ذلك من إبراهيم عليه السلام إلا في حال شدة الخوف لعلو مقامه و إلا فالكذب المحض في مثل تلك المقامات يجوز وقد يجب لتحمل أخف الضررين دفعا لأعظمهما و أما تسمية إياها كذبات فلا يريد أنها تذم فإن الكذب و إن كان قبيحا فحلا لكنه قد يحسن في مواضع و هذا منها‘‘ [2] اور شیخ حسن احمد خطیب اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں: ’’ومن ذلك إباحتهم الكذب إذا ترتب علي الصدق مفسدة عظيمة وقد فصل الحموي في الإشباه الكلام في ذلك فقال ما خلاصته إن الكذب يجوز في ثلثة مواضع في الإصلاح بين الناس وفي الحرب و علي الزوجة لإصلاحها الخ، و يراد بذلك استعمال المعاريض لا الكذب الصريح و نقل أن الكذب يباح لإحياء حق الخ‘‘ [3] واضح رہے کہ اس طرح کی تاویلات کی گنجائش خود امام رازی اور حمید الدین فراہی صاحب کے منقولہ
[1] کما فی تحفۃ الأحوذی للمبارکفوری 3/127 [2] فتح الباری لابن حجر 6/392 [3] الفقہ الإسلامی للشیخ حسن احمد، ص: 230