کتاب: امامت کے اہل کون؟ ( دو اہم سوالوں کے جوابات ) - صفحہ 9
بسم اللّٰه الرحمن الرحيم تقدیم اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالْعَاقِبَۃُ لِّلْمُتَّقِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی اَشْرَفِ الْأَنْبِیَائِ وَالْمُرْسَلِیْنَ وَعَلٰی آلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ وَمَنْ تَبِعَھُمْ بِاِحْسَانٍ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ۔اَمَّابَعْدُ! قارئینِ کرام! السلام علیکم ورحمۃ اللہ برکاتہٗ زیرِ نظر رسالے کا موضوع یہ ہے کہ: ’’حنفی مذہب رکھنے والوں کی اقتداء میں نماز نہیں ہوتی‘‘ کیونکہ ان کے عقائد میں بے پناہ اضطراب پایا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ عقیدہ کا صحیح ودرست ہونا دینِ اسلام کا اوّلین فریضہ اور سب سے اہم تقاضاہے۔صحتِ اعتقاد پر ہی تمام اعمال کی درستگی اور قبولیت کا انحصار ہے۔عقیدہ کا مرکز انسان کا دل ہے جبکہ اعمال کا تعلق بقیہ انسانی اعضاء سے ہے…چنانچہ ایک حدیث میں دل اور دیگر اعضاء انسانی کے باہمی تعلق کو اس طرح بیان کیا گیا ہے: ((۔۔۔أَ لَا وَ إِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَۃً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُکُلُّہٗ، وَإِذَافَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ،أَ لَا وَھِیَ الْقَلْبُ)) [1] ’’(پس ان سے بچواور)سن لو !بدن میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے،جب وہ درست ہوگا توسارا بدن درست ہوگا اور جہاں وہ بگڑا سارا بدن بگڑ گیا۔سن لو !وہ ٹکڑ اآدمی کا دل ہے۔‘‘ [1] صحیح بخاری،کتاب الایمان،حدیث:۵۲،صحیح مسلم،کتاب القدر،سنن اربعہ۔صحیح الجامع الصغیر:۳۱۹۳