کتاب: امامت کے اہل کون؟ ( دو اہم سوالوں کے جوابات ) - صفحہ 76
11نماز بھی خلافِ سنّت: دیوبندیوں کی نماز سنّت کی مخالف ہوتی ہے مثلاً بھول جانے کی صورت میں ان کا امام صرف ایک طرف دائیں طرف سلام پھیر کر سجدۂ سہو کرتا ہے جس کا کوئی ثبوت قرآن،حدیث،اجماع یا آثار سلف میں نہیں ہے۔یہ لوگ نمازیں بھی انتہائی لیٹ کرکے پڑھتے ہیں۔جس کا مشاہدہ ہر دیوبندی مسجد میں کیا جاسکتا ہے۔ ایک صحیح حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر(صحیح العقیدہ) امراء(حکمران) نمازیں لیٹ کرکے پڑھیں تو اپنی نماز اول وقت میں پڑھ لینی چاہیئے۔اور اسکے بعد اگر کوئی ان کے ساتھ نماز پائے تو دوبارہ نفل سمجھ کر پڑھ لے۔[1] علاوہ ازیں ان کے آئمہ اتنی جلدی اور تیزنمازیں پڑھاتے ہیں کہ الامان والحفیظ،رکوع اور سجود میں تعدیلِ ارکان کا بالکل خیال نہیں رکھا جاتا بلکہ نماز صرف ایک پریڈ معلوم ہوتی ہے اور رمضان المبارک میں تراویح میں تو حد ہوجاتی ہے اور قرا ء ت میں یعلمون تعلمون کے علاوہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ 12قرآن وسنّت کی غلط تاویلیں اور تحریفات: ہر سلفی العقیدہ آدمی جس کا دیوبندیوں سے ٹکراؤ ہے ،اس کا مشاہدہ کرتا ہے کہ یہ لوگ قرآن وسنّت کی غلط تاویلیں کرتے ہیں اور تحریفات کے مرتکب ہوتے ہیں۔مثلاً آیت: {فَاسْئَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِاِنْ کُنْتُمْ لَاتَعْلَمُوْنَ} ’’پس اہلِ ذکر سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے۔‘‘ سے یہ لوگ مذاہبِ اربعہ میں سے ایک مذہب کی تقلید کا وجوب ثابت کرتے ہیں حالانکہ اس آیتِ کریمہ سے سلف صالحین میں سے کسی نے یہ استدلال نہیں کیا۔اور نہ سوال کرنا تقلید کہلاتا ہے بلکہ اس آیت کا واضح مفہوم یہی ہے کہ عدمِ علم کی حالت میں (بغیر تعینِ مذاہبِ [1] دیکھئے صحیح مسلم کتاب المساجد،حدیث:۶۴۸