کتاب: امامت کے اہل کون؟ ( دو اہم سوالوں کے جوابات ) - صفحہ 75
چونکہ دیوبندی حضرات اپنی بدعت کی طرف دعوت دیتے ہیں۔لہٰذا اُصولِ حدیث کی رو سے ان کی روایت مردود ہے۔ 10انکارِ حدیث: گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ اندھی تقلید کی وجہ سے دیوبندی حضرات(آلِ دیوبند)حدیثِ صحیح کا انکار کردیتے ہیں۔مفتی رشید احمد لدھیانوی نے لکھا ہے: ’’رجوع الیٰ الحدیث وظیفئہ مقلد نہیں۔‘‘[1] مولانا تقی عثمانی دیوبندی نے تقلیدِ شخصی پر زور دیتے ہوئے لکھا ہے: ’’اور اگر ایسے مقلد کو یہ اختیار دیدیا جائے کہ وہ کوئی حدیث اپنے امام کے مسلک کے خلاف پاکر امام کے مسلک کو چھوڑسکتا ہے تو اس کا نتیجہ شدید افراتفری اور سنگین گمراہی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔‘‘[2] معلوم ہوا کہ دیوبندیوں کے نزدیک مقلد کا صرف یہ کام ہے کہ وہ حدیث کی طرف رجوع نہ کرے بلکہ صرف اپنے مزعوم امام کی طرف ہی رجوع کرے۔ورنہ حدیث پر علم کرنے کی صورت میں وہ ’’گمراہ‘‘ ہوجائے گا!(نعوذ باللہ) مولانا محمود الحسن دیوبندی نے لکھا ہے کہ’’لیکن سوائے امام اور کسی کے قول سے ہم پر حجت قائم کرنا بعید از عقل ہے۔‘‘[3] دیوبندیوں کے ہاں تقلید کی اس قدر اہمیت ہے کہ وہ تقلید کو کسی طور پر بھی چھوڑنے کو تیار نہیں ہوتے چاہے قرآن وحدیث کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جائے جیسے مدتِ رضاعت میں وہ قرآنی حکم کے برخلاف ڈھائی سال کے قائل ہیں۔ [1] احسن الفتاویٰ،ج۳ص۵۰ [2] تقلید کی شرعی حیثیت،ص۸۷ [3] ایضاح الادلہ،ص۲۷۶طبع قدیم