کتاب: امامت کے اہل کون؟ ( دو اہم سوالوں کے جوابات ) - صفحہ 72
میں کوئی فرق نہ آئے گا۔‘‘[1] تنبیہہ: اصولِ حدیث میں یہ مسئلہ مقرر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پورا درود لکھنا چاہیئے صرف اشارہ کردینا (مثلاً،ص،صلعم)صحیح نہیں ہے۔[2] قاری محمد طیب دیوبندی نے لکھا ہے : ’’تو یہاں ختمِ نبوت کا یہ معنیٰ سن لینا کہ نبوت کا دروازہ بند ہوگیا یہ دنیا کو دھوکہ دینا ہے۔نبوت مکمل ہوگئی وہی کام دے گی قیامت تک،نہ یہ کہ منقطع ہوگئی اور دنیا میں اندھیرا پھیل گیا۔‘‘[3] حالانکہ صحیح حدیث میں آیا ہے: ((اِنَّ الرِّسَالَۃَ وَالنُّبُوَّۃَ قَدِ انْقَطَعَتْ)) [4] ’’بے شک رسالت اور نبوت منقطع ہوگئی۔‘‘ رہا یہ کہنا کہ’’اندھیرا پھیل گیا‘‘تو یہ قاری طیب صاحب کی گپ ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔بلکہ دینِ اسلام کے ساتھ چاروں طرف روشنی ہی روشنی پھیل گئی ہے اور اب نہ کوئی رسول پیدا ہوگا اور نہ کوئی نبی۔والحمد للہ اللہ کے نبی حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا قیامت سے پہلے بطورِ نشانی کے،آسمان سے نازل ہونا[5] اس سے مستثنیٰ ہے۔حضرت عیسی ٰعلیہ السلام ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بنی اسرائیل میں پیدا ہوئے تھے اور یہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے دمشق(شام) میں سفید منارے پر نازل [1] تحذیر الناس،ص۳۴ [2] دیکھئے مقدمہ ابن الصلاح مع التقیید والایضاح،ص۲۰۸،۲۰۹ وغیرہ ۔ [3] خطبات حکیم الاسلام،ج۱،ص۳۹ [4] سنن الترمذی:۲۲۷۲ وقال:صحیح غریب [5] کشف الاستارفی زوائد البزار۴/۱۴۲ح۳۳۹۶وسندہ ٗصحیح