کتاب: امامت کے اہل کون؟ ( دو اہم سوالوں کے جوابات ) - صفحہ 70
’’نماز حسبِ قواعد فقہیہ صحیح ہوگی مگر احتیاط اعادہ میں ہے۔‘‘[1] اہلِ سنت کے ایک ثقہ امام احمد بن سنان الواسطی رحمہ اللہ (متوفی ۲۵۹ھ) نے اہلِ بدعت کی یہ(بڑی)نشانی بیان فرمائی ہے کہ وہ اہلِ حدیث سے بغض رکھتے ہیں۔[2] حال ہی میں دیوبندیوں نے بٹگرام،صوبہ سرحد،پاکستان میں ایک(سلفی) اہلِ حدیث مسجد شہید کردی ہے،اس المناک سانحے پر حضرو کے دیوبندی حضرات خوشی مناتے ہوئے بیان جاری کرتے ہیں کہ: ’’بٹگرام کی فضا کو خراب کرنے والے شرپسند ہیں۔سرحد حکومت ایسے لوگوں کے خلاف کاروائی کرے۔ایک حجرے کو عبادت گاہ کا درجہ دے کر علاقے کی فضاء کو فرقہ واریت سے لبریز کرنا سازش ہے…کچھ لوگ بیرونی امداد اور اشاروں پر وہاں فرقہ واریت پھیلانا چاہتے ہیں اور غیر مقلدیت کے نام سے نئے فرقے کی بنیاد ڈالی جارہی ہے…‘‘[3] [4] [1] امداد الفتاویٰ،ج۱ص۲۵۳ [2] دیکھئے معرفۃ علوم الحدیث للحاکم النیسابوری،ص۴ وعقیدۃا لسلف للصابونی،ص۱۰۲ وسندہ صحیح [3] بیان جاری کرنے والے چند علماء یہ ہیں:قاری عبدالرحمن،مولوی عبدالسلام ،مولوی رشید احمد،مولوی فضل واحد، قاری چن محمد،مولوی عبدالخالق،وغیرھم دیکھئے: روز نامہ اسلام راولپنڈی،ج ا،شمارہ ۲۱۹،۱۳/ذی االحجۃ ۱۴۲۴ ھ بمطابق ۵ فروری ۲۰۰۴ء [4] پرانے مسائل کو چھیڑ کر سلفی حضرات کو گالی گلوچ ،رسائل وکتب کی تالیف وتوزیع اور مساجد تک کو جلانے اور گرانے کی یہ کاروائیاں پاکستان اور انڈیا میں احناف نے کی ہیں۔پاکستان کے صوبہ سرحدضلع مانسہرہ شہر بٹگرام کی مسجد عثمان بن عفان کو مقامی متعصب احناف نے آگ لگا دی۔یہ واقعہ ۲۰۰۴ ؁ء کا ہے اور اس مسجد کے متولی شیخ عمر خطاب الریاض میں موجود ہیں۔ان سے تفصیلات معلوم کی جاسکتی ہیں۔اسلام آباد سے شائع ہونے والے’’سیاحۃ الامۃ‘‘ نامی ماہنامہ( عربی)اور بعض دیگر اخبارات میں اس واقعہ کے بارے میں کئی صفحات میں رپورٹ شائع کی گئی تھی۔جلتی مسجد میں قرآن کے نسخے(مع اردو ترجمہ و تفسیر،احسن البیان) بھی جلنے لگے۔بعض لوگوں کے توجہ دلانے پر کہا گیا کہ ’’جلنے دو یہ سعودی قرآن ہے۔‘‘ اسی طرح آندھرا پردیش ہندوستان کے شہر گنٹور میں ابھی پچھلے ماہِ رمضان(۱۴۲۷ ؁ھ) میں سلفی خواتین نے اپنی ایک مسجد میں باجماعت تراویح کیلئے آنا شروع کیا،احناف نے روکنا چاہا ،شور مچا یا ،سرپھوڑے اور مسجد کو گرادیا گیا۔(ابوعدنان)