کتاب: امامت کے اہل کون؟ ( دو اہم سوالوں کے جوابات ) - صفحہ 69
شیخ مقبل بن ہادی الیمنی رحمہ اللہ نے کہا: [التقلید حرام،لا یجوز لمسلم أن یقلد في دین اللّٰہ…][1] ’’تقلید حرام ہے،کسی مسلمان کیلیٔ جائز نہیں ہے کہ اللہ کے دین میں تقلید کرے۔‘‘ اور کہا: [فالتقلید لا یجوز والذین یبیحون تقلید العامي للعالم نقول لھم:أین الدلیل؟] ’’یعنی تقلید جائز نہیں ہے اور جو لوگ عامی(جاہل) کیلئے عالم کی تقلید جائز قراردیتے ہیں ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ(اس کی) دلیل کیا ہے؟اور کہا: [نصیحتي لطلبۃ العلم؛الابتعاد عن التقلید،قال اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ:{لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ}][2] ’’میری طالب علموں کے لیے یہ نصیحت ہے کہ وہ تقلید سے دوررہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:’’اور جس کا تجھے علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ چل۔‘‘ 7اہلِ حدیث سے بغض: دیوبندی حضرات اہلِ حدیث سے سخت بغض رکھتے ہیں۔مولانااشرف علی تھانوی صاحب نے اہلِ حدیث کے بارے میں لکھا ہے: ’’اس لیے احتیاط یہی ہے کہ اُن کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے۔‘‘[3] اور اگر کوئی شخص اہلِ حدیث کے پیچھے نماز پڑھ لے تو اس کے لیے تھانوی فتویٰ درجِ ذیل ہے: [1] تحفۃ المجیب علی أسئلۃ الحاضر والغریب،ص۲۰۵ [2] غارۃ الاشرطۃ علی أھل الجھل والسفسطہ،ص۱۱،۱۲ [3] امداد الفتاویٰ،ج۱،ص۲۴۹