کتاب: امامت کے اہل کون؟ ( دو اہم سوالوں کے جوابات ) - صفحہ 68
6اندھی تقلید: تقلید کا مطلب یہ ہے : ’’بے سوچے سمجھے یا بے دلیل پیروی،نقل،سپردگی۔‘‘ ’’بلا دلیل پیروی کرنا،آنکھ بند کرکے کسی کے پیچھے چلنا،کسی کی نقل اُتارنا۔‘‘[1] مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کہتے ہیں: ’’تقلید کہتے ہیں اُمتی کا قول ماننا بلا دلیل…اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ماننا تقلید نہیں کہلائیگا وہ اتباع کہلاتا ہے۔‘‘[2] اس تعریف کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مفتی رشید احمدصاحب لدھیانوی کا بیان سُن لیں: ’’معہذاہمارا فتویٰ اور عمل قولِ امام رحمہ اللہ کے مطابق ہی رہے گا۔اس لیے کہ ہم امام رحمہ اللہ کے مقلد ہیں اور مقلد کے لیے قولِ امام حجت ہوتا ہے نہ کہ ادلۂ اربعہ کہ ان سے استدلال وظیفۂ مجتہد ہے۔‘‘[3] یعنی دیوبندیوں کے نزدیک قرآن،حدیث ،اجماع اور اجتہاد سے حجت پکڑنا جائز نہیں ہے۔مولانا انورشاہ کشمیری صاحب نے ایک قوی حدیث کا جواب سوچنے کے لیے دس سال سے زیادہ کا عرصہ لگادیا۔[4] مولانا محمود الحسن دیوبندی صاحب نے صاف اعلان کیا: ’’آپ ہم سے وجوبِ تقلید کی دلیل کے طالب ہیں۔ہم آپ سے وجوبِ اتباعِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم ووجوبِ اتباعِ قرآن کی سند کے طالب ہیں۔‘‘[5] [1] القاموس الوحید۱۳۴۶ [2] الافاضات الیومیہ،ج۳ص۱۵۹ملفوظ:۲۲۸ [3] ارشاد القاری،ص۴۱۲ [4] دیکھئے:فیضالباری،ج۲ص۲۷۵،العرف الشذی،ج۱،ص۱۰۷،معارف السنن،ج ۴ص۲۶۴ درس ترمذی،ج۲ص۲۲۴ [5] ادلہ کاملہ،ص۷۸