کتاب: امامت کے اہل کون؟ ( دو اہم سوالوں کے جوابات ) - صفحہ 66
میں نے جب اپنے طویل خط’’امین اوکاڑوی کا تعاقب‘‘ میں عبارت ِ مذکورہ کا حوالہ دیا تو اوکاڑوی نے اعتراض کی عبارت بدل کر اسے کاتب کی غلطی قرار دیا۔[1]حالانکہ عبارتِ مذکورہ کا تب کی غلطی نہیں بلکہ ماسٹر امین اوکاڑوی کی کتاب’’غیر مقلدین کی غیر مستند نماز‘‘ص۴۳،فقرہ:۱۹۸ مطبوعہ:المدنی دارالکتاب سرے گھاٹ۔حیدرآباد اور’’تجلیاتِ صفدر‘‘ ج۴ص۴۸۸ مطبوعہ امدایہ ملتان،ازنعیم احمد دیوبندی ملتانی استاذ جامعہ خیر المدارس ملتان،میں بھی موجود ہے۔تجلیاتِ صفدر،ج۱،ص۲۹ پر محمد نعیم ملتانی کے لیے اشاعت کا اجازت نامہ حکم محمد امین اوکاڑوی،۲۰ جمادی الثانی ۱۴۲۱ھ موجود ہے۔لہٰذا معلوم ہوا کہ اوکاڑوی صاحب کا اسے کاتب کی غلطی قرار دینا خود اُنکے قلم سے منسوخ اور غلط ہے۔ ابو بلال محمد اسماعیل جھنگوی نے لکھا ہے: ’’نماز میں اقعاء خود رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔[2]لیکن (مسلم شریف ج۱،ص۱۹۵) پر اسے عقبۃ الشیطان کہا گیا ہے…۔دیکھیں اپنے کئے ہوئے فعل کوعقبۂ شیطان کہا جارہا ہے۔[3] حالانہ جس اقعاء کو عقبۂ شیطان کہا گیا ہے وہ اقعاء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو اقعاء ثابت ہے وہ دوسرا اقعاء ہے۔عقبۃ الشیطان والا اقعاء قطعاً نہیں ہے۔دیکھئے محولہ کتابوں کی شروح،لہٰذا جھنگوی کا قولِ مذکور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات سری نمازوں میں ایک دو آیتیں جہراً پڑھ دیتے تھے اس کے بارے میں مولانا اشرف علی تھانوی صاحب لکھتے ہیں: ’’اور میرے نزدیک اصل وجہ یہ ہے کہ آپ پر ذوق کی حالت غالب ہوئی تھی جس میں یہ جہرواقع ہوجاتا تھا اور جب کہ آدمی پر غلبہ ہوتا ہے تو پھر اس کی خبر نہیں رہتی کہ کیا کررہا [1] دیکھیئے:ماہنامہ الخیر ملتان،ج۱۸، شمارہ۴،ص۴۱ ،جولائی ۲۰۰۰ ؁ء ربع الثانی ۱۴۲۱ ؁ھ [2] ترمذی ،ج ۱،ص۳۸،ابوداؤد جلد۱ص۱۲۳ [3] تحفہ اہلِ حدیث،ج۲ص۱۲۱