کتاب: امامت کے اہل کون؟ ( دو اہم سوالوں کے جوابات ) - صفحہ 65
اس ٹٹی کے بارے میں مولاناعاشق الٰہی دیوبندی میرٹھی نے لکھا ہے: ’’پوتڑے نکالے گئے جو نیچے رکھ دیئے جاتے تھے تو ان میں بدبو کی جگہ خوشبو اور ایسی نرالی مہک پھوٹتی تھی کہ ایک دوسرے کو سنگھاتا اور ہر مرد اور عورت تعجب کرتا تھا چنانچہ بغیر دھلوائے اُن کو تبرک بنا کر رکھ دیا گیا۔‘‘[1] پاخانہ کو دیوبندیوں کا تبرک بناکر رکھنا تو آپ نے پڑھ لیا،اب مولانا زکریا تبلیغی صاحب کا قول پڑھیے: ’’لیکن مجھ جیسے کم علم کے لیے تو سب اہلِ حق معتمد علماء کا قول حجت ہے۔‘‘[2] اہلِ حق سے،ان کے نزدیک مراد علماء دیوبند ہیں۔مولانااشرف علی تھا نوی صاحب فرماتے ہیں: ’’اور دلیلِ نہی ہم مقلدوں کے لیے تو فقہاء کا فتویٰ ہے اور فقہاء کی دلیل تفتیش کرنے کا ہم کو حق حاصل نہیں۔‘‘[3] 5گستاخیاں: ماسٹر امین اوکاڑوی دیوبندی[4] ایک صحیح حدیث کا مذاق اُڑاتے ہوئے لکھتا ہے: ’’لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھاتے رہے اور کُتیا سامنے کھیلتی رہی اور ساتھ گدھی بھی تھی،دونوں کی شرمگاہوں پر بھی نظر پڑتی رہی۔‘‘[5] [1] تذکرۃ الخلیل،ص۹۶،۹۷ [2] کتب ِ فضائل پراشکالات اور اُن کے جوابات،ص۱۳۴ [3] امداد الفتاویٰ،ج۵،ص۳۱۳،۳۱۴ [4] دیوبندیوں کی معتبر کتاب’’علمی مجالس‘‘میں لکھا ہوا ہے کہ سعودی عرب کے سابق مفتی ٔ اعظم شیخ الاسلام عبدالعزیز بن باز ؒ نے ایک شخص کو اپنی مجلس سے نکال دیا تھا جس کے بارے میں انہیں یقین ہوگیا تھا کہ امین اوکاڑوی کا شاگرد ہے۔(علمی مجالس،ص۲۶۱) [5] مجموعہ رسائل ،ج۳ص۳۵۰طبع ستمبر۱۹۹۴ء