کتاب: امامت کے اہل کون؟ ( دو اہم سوالوں کے جوابات ) - صفحہ 64
’’اور یہ نہیں کہا جاتا کہ اس کے ہاتھ سے مراد قدرت یا نعمت ہے کیونکہ اس میں صفت کا ابطال ہے اور یہ قول قدریوں اور معتزلہ کا ہے۔لیکن اس کا ہاتھ اس کی صفت ہے بغیر کیفیت کے۔‘‘ مرجیئہ کی طرح دیوبندی حضرات ایمان میں زیادتی اور نقص کے بھی قائل نہیں ہیں اُن کے نزدیک ایمان فقط تصدیقِ قلب کا نام ہے۔دیکھئے ’’حقانی عقائد الاسلام‘‘،ص۱۲۳، تصنیف عبدالحق حقانی وپسند فرمودہ مولاناقاسم نانوتوی صاحب۔ مفتی محمد گنگوہی دیوبندی لکھتے ہیں: ’’خدا ہر جگہ موجود ہے۔‘‘[1] اپنے اس باطل عقیدے پر مفتی مذکور نے جھوٹ بولتے ہوئے لکھا ہے: ’’ابن جوزی سے کسی نے پوچھا کہ خدا کہاں ہے؟تو فرمایا کہ ہر جگہ ہے۔‘‘[2] اس کذب وافتراء کے سراسر برعکس حافظ ابن الجوزی نے جہمیہ کے فرقہ ملتزمہ کے بارے میں لکھا ہے: [والملتزمۃ جعلوا الباري سبحانہ وتعالٰی فی کل مکان] [3] ’’ملتزمہ نے باری سبحانہٗ وتعالیٰ کو ہر جگہ(موجود)قرار دیا ہے۔‘‘ 4اکابر پرستی اور غلوّ: دیوبندی حضرات اپنے اکابر کے بارے میں سخت غلوّ کرتے ہیں۔مولوی محمد الیاس دیوبندی،بانی جماعتِ تبلیغ کی نانی کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’جس وقت انتقال ہوا تو ان کپڑوں میں کہ جن میں آپ کا پاخانہ لگ گیا تھا عجیب وغریب مہک تھی کہ آج تک کسی نے ایسی خوشبو نہیں سونگھی۔‘‘[4] [1] ملفوظاتِ فقیہ الامت،ج۲،ص۱۴ [2] ایضاً،ص۱۴ [3] تلبیسِ ابلیس،ص۳۰اقسام أھل البدع [4] تذکرۃ مشائخ دیوبند،حاشیہ ص۹۶،تصنیف مفتی عزیز الرحمن