کتاب: امامت کے اہل کون؟ ( دو اہم سوالوں کے جوابات ) - صفحہ 63
3 جہمیہ اور مرجیئہ کی موافقت: مولانااشرف علی تھانوی صاحب نے فرقہ جہمیہ کے بارے میں لکھا ہے: ’’اور جہمیہ [1]جو ایک فرقہ اسلامیہ ہے وہ ان سب امور میں تاویل کرتے ہیں۔مثلاً ((یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْکُمْ)) میں ید سے مراد قوت کہتے ہیں۔اور متاخرین نے ان مبتدعین کے مذہب کو اختیار کیا ہے ایک خاص ضرورت سے اور وہ یہ ہے کہ نصاریٰ کے ساتھ مشابہت ہوتی ہے…۔‘‘[2] مولانا خلیل احمد سہارنپوری دیوبندی صاحب آیاتِ صفات کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’اس قسم کی آیات میں ہمارا مذہب یہ ہے کہ ان پر ایمان لاتے ہیں اور کیفیت سے بحث نہیں کرتے،یقیناً جانتے ہیں کہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ مخلوق کے اوصاف سے منزہ اور نقص وحدوث کی علامات سے مبرّا ہے جیسا کہ ہمارے متقدمین کی رائے ہے اور ہمارے متاخرین اماموں نے ان آیات میں جو صحیح اور لغت وشرع کے اعتبار سے جائز تاویلیں فرمائی ہیں تاکہ کم فہم سمجھ لیں مثلاً یہ کہ ممکن ہے استواء سے مراد غلبہ ہو اور ہاتھ سے مراد قدرت تو یہ بھی ہمارے نزدیک حق ہے۔‘‘[3] معلوم ہوا کہ دیوبندیوں نے جہمیہ کا مذہب اختیار کیا ہے۔امام ابوحنیفہ ؒ سے مروی ہے: (ولا یقال ان یدہ قدرتہ أونعمتہ لان فیہ ابطال الصفتہ وھو قول لاھل القدر والاعتزال ولکن یدہ صفتہ بلاکیف) [4] [1] یہ فرقہ جہم بن صفوان کی طرف منسوب ہے۔حافظ ذہبی ؒ،جہم بن صفوان کے بارے میں لکھتے ہیں: [وکان ینکر الصفات وینزہ الباري عنھا بزعمہ ویقول بخلق القرآن ویقول:ان اللّٰہ فی الأمکنۃ کلھا] ’’وہ صفات کا انکار کرتا تھا اور اپنے زعم میں باری تعالیٰ کو ان سے منزہ قرار دیتا تھا، خلقِ قرآن کا قائل تھا اور کہتا تھا کہ اللہ ہرجگہ موجود ہے‘‘۔(سیر اعلام البنلاء۶/۲۶،۲۷) [2] تقریر ترمذی للتھانوی،ص۲۰۳۔۲۰۴ [3] المہند،ص۴۲جواب سوال:۱۳۔۱۴ [4] الفقہ الاکبر مع شرح القاری،ص۳۶ ،۳۷