کتاب: امامت کے اہل کون؟ ( دو اہم سوالوں کے جوابات ) - صفحہ 59
ہندوستان کا ایک شہر’’ دیوبند ‘‘ہے جس کی نسبت تین قسم کے لوگوں سے ہے: 1دیوبند کا رہنے والا،چاہے ہندو ہو یا مسلم۔ 2 مدرسہ دیوبند کا پڑھا ہوا یا فارغ التحصیل شخص۔ 3 علماء دیوبند کا ہم عقیدہ وہم مسلک شخص۔ اوّل الذکر ہماری اس بحث سے خارج ہے،ثانی الذکر اگر علمائے دیوبند کا ہم عقیدہ وہم مسلک نہیں ہے تو وہ بھی اس بحث سے خارج ہے اور اگر ہم عقیدہ ہے تو اس کا وہی حکم ہے جو ثالث الذکر کا حکم ہے۔ ثالث الذکر کے بارے میں واضح ہے کہ((اَلْمَرْئُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ))(صحیح بخاری ومسلم)کی رُو سے اس کا اور علمائے دیوبند کا ایک ہی حکم ہے۔ علمائے دیوبند کے چند خطرناک عقائد بالاختصار پیش ِ خدمت ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ دیوبند کی بدعت انتہائی شدید اور خطرناک ہے۔ 1عقیدہ ٔوحدت الوجود: حاجی امداد اللہ’’مہاجر مکی‘‘ نے کہا ہے : ’’نکتہ شناسا مسئلہ وحدت الوجود حق وصحیح ہے،اس مسئلہ میں کوئی شک وشبہہ نہیں ہے۔فقیر ومشائخِ فقیر اور جن لوگوں نے فقیر سے بیعت کی ہے سب کا اعتقاد یہی ہے۔مولوی محمد قاسم صاحب مرحوم ومولوی رشید احمد ومولوی محمد یعقوب صاحب،مولوی احمدحسن صاحب وغیرہم فقیر کے عزیز ہیں اور فقیر سے تعلق رکھتے ہیں کبھی خلافِ اعتقاداتِ فقیر وخلافِ مشربِ مشائخ طریق خود مسلک اختیار نہ کریں گے۔‘‘[1] وحدت الوجود کا مطلب یہ ہے کہ: ’’تمام موجودات کو اللہ تعالیٰ کا وجود خیال کرنا۔اور وجود ماسواٰ کو محض اعتباری سمجھنا [1] شائم ِامدادیہ،ص۳۲ وکلیات امدادیہ،ص۲۱۸