کتاب: امامت کے اہل کون؟ ( دو اہم سوالوں کے جوابات ) - صفحہ 58
((وَحَسِبْتُ أَنَّہٗ قَالَ:اِنَّکَ آذَیْتَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ))[1] اور میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تونے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دی ہے۔‘‘ معلوم ہوا کہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دینے والے کو امام نہیں بنانا چاہیے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بیزاری،بدعت اور بدعتی سے : امام مجاہد رحمہ اللہ (بن جبر)تابعی شہیر فرماتے ہیں: ’’میں ابن عمر( رضی اللہ عنہما ) کے ساتھ تھا کہ ایک شخص نے ظہر یا عصر کی آذان میں تثویب کہہ دی (یعنی ’’ اَلصَّلٰوۃُخَیْرٌمِّنَ النَّوْمِ‘‘پڑھا)توابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: (اُخْرُجْ بِنَا،فَاِنَّ ھَذِہٖ بِدْعَۃٌ) [2] ’’ہمیں یہاں سے نکال لے جاؤ،کیونکہ بے شک یہ(مؤذن کا ظہر وعصر میں ’’ اَلصَّلٰوۃخَیْرٌمِّنَ النَّوْمِ‘‘ کہنا) بدعت ہے۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک بدعتی کے سلام کا جواب نہیں دیا تھا۔[3] جولوگ ’’لاقدر‘‘(وغیرہ) کہہ کر تقدیر کا انکار کرتے ہیں ان کے بارے میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اعلان فرمایا: (فَاَخْبِرْ ھُمْ أَنِّيْ بَرِیٌ مِّنْھُمْ وَأَنَّھُمْ بَرَائَ مِنِّيْ) [4] ’’انہیں کہہ دو کہ میں ان سے بریٔ(بیزار) ہوں اور وہ مجھ سے بریٔ ہیں۔‘‘ دیوبندیوں کے چند خطرناک عقائد : اہلِ بدعت کے بارے میں منہجِ اہلِ سنّت کی اس وضاحت کے بعد عرض ہے کہ [1] حوالۂ سابقہ [2] سنن ابی داؤد:۵۳۸ وھو حدیث حسن [3] سنن الترمذی:۲۱۵۲وقال:ہذا حدیث حسن صحیح غریب [4] صحیح مسلم:۸