کتاب: امامت کے اہل کون؟ ( دو اہم سوالوں کے جوابات ) - صفحہ 56
یعنی جس طرح یہود ونصاریٰ کے پیچھے نماز پڑھنے کا کوئی مسلم(مسلمان) قائل نہیں اسی طرح جہمی اور رافضی کے پیچھے بھی نماز نہیں ہوگی۔‘‘ 6امام زھیر بن البابی رحمہ اللہ کا فتویٰ: امام زھیر بن البابی رحمہ اللہ نے فرمایا: [اذا تیقنت أنہ جھمي أعدت الصلٰوۃ خلفہ الجمعۃ وغیرھا] [1] ’’اگر تجھے یقین ہوجائے کہ وہ(امام)جہمی ہے تو اس کے پیچھے جمعہ وغیرہ کی نماز کا اعادہ کرلے۔‘‘(یعنی دوبارہ نماز پڑھ) 7امام ابوعبیدالقاسم بن سلام اور امام یحییٰ بن معین رحمہم اللہ کا فتویٰ: امام ابوعبیدالقاسم بن سلام اور امام یحییٰ بن معین رحمہم اللہ ،دونوں بدعتی کے پیچھے پڑھی ہوئی نماز دہرانے کے قائل تھے۔[2] 8امام قوام السنہ رحمہ اللہ کا فتویٰ: [قال قوام السنۃ اسماعیل بن محمد الفضل الأصبھانی(متوفی ۵۳۵ ؁ھ):فأصحاب الحدیث لایرون الصلٰوۃ خلف أھل البدع لئلایراہ العامۃ فیفسدون بذالک] [3] ’’امام قوام السنہ اسماعیل بن محمد بن فضل الاصبہانی رحمہ اللہ نے کہا: ’’اور محدثینِ کرام اہلِ بدعت کے پیچھے نمازپڑھنے کے قائل نہیں ہیں تاکہ عوام الناس گمراہ نہ ہوجائیں۔‘‘ [1] السنۃ۱/۱۲۹،فقرہ:۷۳ وسندہٗ صحیح [2] السنۃ۱/۱۳۰،فقرہ:۷۵ سندہ ٗصحیح،فقرہ:۷۶ سندہ ٗصحیح [3] الحجۃ فی بیان المحجۃ وشرح عقیدۃ أھل السنۃ۲/۵۰۷