کتاب: امامت کے اہل کون؟ ( دو اہم سوالوں کے جوابات ) - صفحہ 52
دوسرا رسالہ بسم اللّٰه الرحمن الرحيم سوال کیا دیوبندی عقائد والے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے؟ (ذوالفقار بن ابراہیم الاثری ،متعلم الجامعۃ الاسلامیہ،مدینہ منوّرہ[سعودی عرب]) جواب الحمد للّٰہ رب العالمین، والصلوۃ والسلام علی رسولہ الأ مین، أما بعد: دینِ اسلام کے ارکانِ خمسہ میں سے دوسرا بنیادی رکن:الصلوٰۃ(نماز) ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {وَأَقِیْمُوا الصَّلاَۃَ وَآتُوا الزَّکَاۃَ وَارْکَعُوْا مَعَ الرَّاکِعِیْنَ }[1] ’’اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دیا کرو اوررکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ((فَأَخْبِرْھُمْ أَنَّ اللّٰہَ قَدْ فَرَضَ عَلَیْھِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِیْ یَوْمِھِمْ وَلَیْلَتِھِمْ)) [2] ’’پس انہیں خبر دے دو کہ بیشک اللہ نے ان پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔‘‘ یہ پانچوں نمازیں باجماعت امام کے پیچھے پڑھنی چاہئیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے کہا: [1] سورۂ بقرہ:۴۳ [2] صحیح البخاری:۷۳۷۲ وصحیح مسلم:۱/۲/۲۰۰مع النووی