کتاب: امامت کے اہل کون؟ ( دو اہم سوالوں کے جوابات ) - صفحہ 51
((اَلْمَرْئُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ)) [1] ’’آدمی اس کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔‘‘ اوراس کے پیچھے بھی نماز کا وہی حکم ہے کہ جو ان باطل فرقوں کا ہے۔ استاذ محترم شیخ حافظ ابوطاہر زبیر علی زئی حفطہٗ اللہ نے کافی محنت اور عرق ریزی سے ایسے حوالہ جات اکٹھے کیے جن سے انہوں نے ثابت کیا کہ اہلُ البدعۃ کی اقتداء میں نماز نہیں ہوتی،اسی طرح انہوں نے موجودہ دور کے مقلد فرقہ دیوبندیہ کے باطل عقائد ونظریات کو بھی دلائل کے ساتھ واضح کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ ان حضرات کے عقائد اور نظریات بھی ان باطل فرقوں کی طرح ہیں بلکہ انہوں نے مختلف باطل فرقوں کے عقائد ونظریات کو اپنا(کر چوں چوں کا مربہ بنا) رکھا ہے جس کی وجہ سے تمام باطل فرقوں کے عقائد اس فرقہ کے نظریات میں شامل ہوگئے۔ موصوف نے اس موضوع پر ایک دوسری کتاب’’اکاذیبِ آلِ دیوبند‘‘ کے نام سے ترتیب دے رکھی ہے جوعنقریب منظرعام پر آنے والی ہے(ان شآء اللہ) موصوف بلا شبہ موجودہ دور میں سلف کا ایک نمونہ ہیں اور قرآن وحدیث کے ساتھ ساتھ وہ عملِ سلفِ صالحین پر عمل پیرا ہیں۔ اللہ تعالیٰ موصوف کو طویل عمر اور صحتِ کاملہ عطاء فرمائے اور تمام طرح کی اعلیٰ صلاحیتوں سے بہرہ ور فرمائے تاکہ قرآن وحدیث کی تحقیق پر جو کام انہوں نے شروع کررکھا ہے وہ پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے۔آمین یا رب العامین کتبہ: ابوجابر عبداللہ دامانوی ۲۳محرم الحرام ۱۴۲۵ ؁ھ [1] صحیح بخاری ومسلم،سنن ابوداؤد،ترمذی،نسائی،مسند احمد،صحیح الجامع الصغیر:۶۶۸۹