کتاب: امامت کے اہل کون؟ ( دو اہم سوالوں کے جوابات ) - صفحہ 44
احمد بن یسار فرماتے ہیں کہ صدقہ بن فضل سے تارکِ صلوٰۃ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ کافر ہے سائل پوچھنے لگا کیا اس کی بیوی اس سے جدا ہو جائے؟صدقہ نے جواب دیا کہ کفر کی طلاق سے کیا نسبت کہ اگر آدمی کافر ہوجائے تو اس کی بیوی کو طلاق نہ ہو؟یعنی لازماً طلاق ہوجائے گی۔ محمد بن نصرفرماتے ہیں کہ میں نے اسحاق کو کہتے سنا کہ نبی ٔکریم صلی اللہ علیہ وسلم سے(بطریق) صحیح مروی ہے کہ نماز کا تارک کافر ہے۔زمانہ ٔ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک علماء کا یہی مذہب رہا ہے ۔بلاعذر نماز کو قصداً ترک کرنے والا یہاں تک کہ اس نماز کا وقت فوت ہوجائے کافر ہے۔‘‘ ان عبارات سے روز روشن کی طرح ظاہر ہوگیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام اور آئمہِ حدیث رحمۃ اللہ علیہم ترک الصلوٰۃ کو کفر کہنے پر متفق تھے۔[1] برخلاف اس کے حنفیہ نماز کو ایمان نہیں کہتے نہ اس کو ایمان کا جزء سمجھتے ہیں تو ایسی صورت میں ان کی اقتداء میں نماز کیسے درست ہوسکتی ہے؟نیز جب وہ نماز کو ایمان نہیں جانتے تو معلوم نہیں کیا پڑھ رہے ہیں اور اسی عقیدہ کی بنا پر حنفیہ کو فرقہ مرجیۂ میں شمار کیا گیا ہے۔جیسا کہ شیخ عبدالقادر جیلانی نے غنیۃ الطالین میں فرمایا ہے۔اور حنفیہ کے مایہ ٔناز عالم مولاناعبدالحئی لکھنوی نے بھی کتاب ’’الرفع والتکمیل‘‘ میں تسلیم کیا ہے نیز امام ابوداؤد سجستانی کتا ب’’ مسائل الامام احمدبن حنبل‘‘( صفحہ ۴۳) میں فرماتے ہیں: (قلت لاحمد اصلی خلف المرجیۃ قال: اذا کان داعیالایصلی خلفہ۔…)[2] [1] مزیدتفصیل کیلئے کتاب الشریعۃ الآجری اور کتاب السنۃ لعبد اللہ بن احمد بن حنبل اور کتاب السنۃ للالکائی وغیرھا دیکھنی چاہئیں۔ [2] کتاب مسائل الامام احمدبن حنبل لابی داؤد صفحہ ۴۳