کتاب: امامت کے اہل کون؟ ( دو اہم سوالوں کے جوابات ) - صفحہ 43
عبداللہ بن مبارک کو کہتے سنا کہ جس نے کہا کہ میں ’’آج فرض نماز نہیں پڑھوں گا‘‘تو وہ گدھے سے بھی زیادہ گمراہ ہے۔یحییٰ بن معین فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک کو بتایا گیا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جو شخص نماز اور روزے کااقرار توکرے لیکن ان کو ادا نہ کرے تو وہ کامل ایمان والا مومن ہے ۔عبداللہ بن مبارک فرمانے لگے، ہمارا یہ مذہب نہیں ہے۔جو شخص بلا سبب نماز نہ پڑھے اور وقت نکل جائے اور اگلی نماز کا وقت شروع ہوجائے تو وہ ہمارے نزدیک کافر ہے۔‘‘ (وقال ابن ابی شیبۃ قال النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم ((مَنْ تَرَکَ الصَّلٰوۃَ فَقَدْ کَفَرَ))فیقال لہ:ارجع عن الکفر فان فعل والاقتل بعد ان یؤجلہ الوالی ثلائۃ ایام وقال احمد بن یسار سمعت صدقۃ بن الفضل سئل عن تارک الصلٰوۃ فقال:کافر،فقال لہ السائل أتبین منہ امرأتہ؟فقال صدقۃ واین الکفر من الطلاق،لوان رجلاً کفر لم تطلق منہ امرأتہ؟قال محمد بن نصر سمعت اسحاق یقول صح عن النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم ان تارک الصلٰوۃ کافر،وکذالک کان رای اھل العلم من لدن النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم الی یومنا ھذا ان تارک الصلٰوۃ عمداً من غیر عذر حتیٰ یذھب وقتھا کافر…)[1] ’’اور امام ابن ابی شیبہ فرماتے ہیں کہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ’’ نماز کو قصداً ترک کرنے والا کافر ہے۔‘‘ اس سے مطالبہ کیا جائے گا کہ کفر سے باز آجائے اگر توبہ کرے تو بہتر ہے ورنہ حاکم وقت تین دن کی مہلت کے بعد اس کا سر قلم کردے ۔ [1] ایضاً