کتاب: امامت کے اہل کون؟ ( دو اہم سوالوں کے جوابات ) - صفحہ 41
للمنذری (ج۱،ص۳۷۳) میں ہے۔‘‘ اور حافظ عبدالحق اشبیلی’’ کتاب الصلوٰۃ‘‘ میں فرماتے ہیں: (ذھب جملۃ من الصحابۃ رضی اللّٰہ عنھم ومن بعدھم الی تکفیر تارک الصلٰوۃ متعمداً ترکھا حتی یخرج جمیع وقتھا منھم عمر بن الخطاب ومعاذ بن جبل وعبداللّٰہ بن مسعود وابن عباس وجابر وابوالدرداء وکذالک روی عن علی بن ابی طالب کرم اللّٰہ وجھہ۔ھؤلا من الصحابۃٗ ومن غیرھم احمد بن حنبل واسحق بن راہویہ وعبداللّٰہ بن المبارک وابراہیم النخعی والحکم بن عتیبہ وایوب السختیانی وابوبکر بن ابی شیبۃ وابو خیثمۃ زھیر بن حرب۔…)[1] ’’تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور بعد میں آنے والے علماء حق قصداً نماز چھوڑنے والے کو کافر سمجھتے تھے۔انہی میں حضرت عمر بن خطاب،معاذ بن جبل،عبداللہ بن مسعود،عبداللہ بن عباس،حضرت جابر اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہم ہیں۔حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح منقول ہے۔صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے علاوہ دیگر آئمہ کرام جیسے امام احمد بن حنبل،اسحاق بن راہویہ ،عبداللہ بن مبارک،ابراہیم نخعی،حکم بن عتیبہ،ایوب سختیانی(ابوداؤد طیالسی)،ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوخثیمہ زہیر بن حرب رحمۃ اللہ علیہم سب اسی کے قائل ہیں۔‘‘ علّامہ ابن قیم کی ’’کتاب الصلوٰۃ‘‘ میں صفحہ ۴۱ پر اسی طرح مذکور ہے۔‘‘ اور پھر صفحہ ۵۳ پر فرماتے ہیں: [1] کتاب الصلوٰۃ لا بن القیم، ص۴۱