کتاب: امامت کے اہل کون؟ ( دو اہم سوالوں کے جوابات ) - صفحہ 36
الذی بلغ حد الجزم والاذعان وھذا لا یتصور فیہ زیادۃ ولا نقصان حتی ان من حصل لہ حقیقۃ التصدیق فسواء اتی بالطاعات اوارتکب المعاصی فتصدیقہ باق علی حالہ لا تغیر فیہ اصلا…)[1] (مختصروھٰکذا فی عامۃ کتبھم) ’’پس اس جگہ دو مقام ہیں: پہلا یہ ہے کہ تحقیق اعمال ایمان میں داخل نہیں ہیں۔جیسا کہ اس سے قبل مذکورہے کہ ایمان صرف تصدیق کا نام ہے کیونکہ کتاب وسنت میں اعمال کا عطف ایمان پر کیا گیا ہے۔جیسے فرمان الٰہی ہے: {إِنَّ الَّّذِیْنَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ} (البقرہ:۲۷۷وغیرھا) ’’اور بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے۔‘‘ حالانکہ یقیناً معطوف معطوف علیہ کا غیر ہوتا ہے۔لہٰذا اعمال ایمان سے خارج ہیں۔ دوسرا مقام یہ ہے کہ ایمان کی حقیقت میں زیادتی اور کمی نہیں ہوتی۔جیسے کہ بیان ہوا کہ ایمان کی حقیقت یقین کی حد تک پہنچنے والی تصدیق ہے اور اس میں زیادتی اور کمی کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔حتیٰ کہ جو شخص تصدیق ویقین رکھنے والا ہے وہ اچھے اعمال کرے یا برے اعمال کا مرتکب ہو اس کی تصدیق(ایمان وایقان) میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔دونوں حالتوں میں تصدیق ایک ہی حالت پر باقی رہتی ہے۔‘‘ ان کی اکثر کتابوں میں یہی عقیدہ مذکور ہے۔ [1] شرح عقائد نسفیہ صفحہ ۸۸