کتاب: امامت کے اہل کون؟ ( دو اہم سوالوں کے جوابات ) - صفحہ 33
واطنب ابن ابی حاتم واللالکائی فی نقل ذالک بالاسانید عن جمع کثیر من الصحابۃ والتابعین وکل من یدور علیہ الاجماع من الصحابۃ والتابعین وحکاہ فضیل ابن عیاض ووکیع عن اھل السنۃ والجماعۃ۔…)[1] ’’محمد بن نصر مروزی نے کتاب’’تعظیم قدر الصلوٰۃ‘‘ میں نقل کیا ہے کہ آئمہ کی ایک جماعت کا یہی عقیدہ ہے کہ ایمان قول اور عمل کا نام ہے اور زیادہ اور کم ہوتا ہے۔امام عبدالرزاق نے اپنی’’مصنّف‘‘ میں سلف سے اس بات کی تصریح کی ہے۔مثلاً سفیان ثوری، مالک بن انس، اوزاعی، ابن جریج اور معمر وغیرہ جو کہ اپنے شہروں اور اپنے زمانہ کے مشہور فقہاء ہیں۔ ابوالقاسم اللالکائی نے کتاب’’ السنۃ‘‘ میں امام شافعی،احمد بن حنبل،اسحاق بن راہویہ اور ابی عبید وغیرہ اماموں سے اسی طرح نقل کیا ہے۔ صحیح سند کے ساتھ امام بخاری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ آپ فرماتے ہیں: ’’میں نے مختلف شہروں میں ایک ہزار سے زائد علماء کو پایا وہ سبھی اس بات کے قائل تھے کہ ایمان قول ہے اور عمل ہے۔بڑھتا اور گھٹتا ہے۔ابن ابی حاتم اور اللالکائی نے بے شمار صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمۃ اللہ علیہم سے اسانید کے ساتھ اس کو تفصیلاً ذکر کیا ہے۔یہی بات ایسے بڑے بڑے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمۃ اللہ علیہم سے منقول ہے جن کی بات اجماع کا فائدہ دیتی ہے۔ایمان کی یہی مذکورہ بالا تعریف فضیل بن عیاض اور وکیع نے اہل سنّت والجماعت سے نقل کی ہے۔‘‘ [1] فتح الباری۔ج۱،ص۴۸،۵۲طبع الریاض