کتاب: امامت کے اہل کون؟ ( دو اہم سوالوں کے جوابات ) - صفحہ 31
’’وہ ہمیشہ زندہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں پس خالص اسی کو پکارو ،تمام اختیارات اللہ تعالیٰ کے ہیں جو تمام جہانوں کا مالک ہے۔‘‘ اور اس صفت میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں۔اور حنفی مذہب کے بموجب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس دنیا والی حیات ہی قبر میں حاصل ہے۔اور علّامہ حسن شرنبلالی ’’مراقی الفلاح علیٰ نور الایضاح‘‘،ص۴۴۷ مع حاشیہ طحطاوی میں لکھتے ہیں: (ومما ھو المقرر عند المحققین انہ صلی اللّٰه علیہ وسلم حی یرزق متمتع بجمیع الملاذ والعبادات غیر انہ حجب عن ابصار القاصرین عن شریف المقامات،…)[1] ’’علمائے محققین کے نزدیک یہ بات ثابت شدہ ہے کہ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں اور رزق دیے جاتے ہیں تمام لذتوں اور عبادات سے(بہرہ مند ہوتے) فائدہ دیے جاتے ہیں۔لیکن ان لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہیں جو کہ اعلیٰ مقامات سے قاصر ہیں۔‘‘ اور’’ عقائد دیوبند‘‘ صفحہ ۷ میں ہے کہ: ’’ہمارے نزدیک اورہمارے مشائخ کے نزدیک حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبرِ مبارک میں زندہ ہیں اور آپ کی حیاتی دنیا کی حیاتی ہے، مکلّف ہونے کی،اور یہ حیات مخصوص ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور شہداء کے ساتھ۔یہ حیات برزخی نہیں ہے،جو حاصل ہے تمام مسلمانوں کو بلکہ سب آدمیوں کو…۔‘‘[2] یہ عقیدہ صریحاً قرآنِ مجید کے خلاف ہے۔قال اللہ تعالیٰ: {اِنَّکَ مَیِّتٌ وَاِنَّھُمْ مَیِّتُوْنَ} (سورۃ الزمر: ۳۰) [1] مراقی الفلاح علیٰ نور الایضاح،ص۴۴۷ مع حاشیہ طحطاوی [2] عقائد دیوبند صفحہ ۷