کتاب: امامت کے اہل کون؟ ( دو اہم سوالوں کے جوابات ) - صفحہ 30
اپنے پیغمبر کا صدقہ اے خدا نام جن کا ہے محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت موسیٰ کا صدقہ اے کریم جو ہیں پیغمبر تیرے اور ہیں تیرے کلیم[1] اور یہی حاجی امداد اللہ صاحب جن کو’’مرشد العرب والعجم‘‘ کہا گیا۔ان کے ملفوظات’’شمائمِ امدایہ‘‘(ص۸۴) میں اشعار ہیں،جن میں وہ اپنے مرشد شاہ نور محمد کو یوں خطاب کرتے ہیں کہ: ؎ آسرا دنیا میں ہے از بس تمہاری ذات کا تم سوا اوروں سے ہر گز کچھ نہیں ہے التجا بلکہ دن محشر کا ہوگا جس وقت قاضی خدا آپ کا دامن پکڑ کر یہ کہوں گا برملا اے شہ نور محمد وقت ہے امداد کا[2] اس قسم کا عقیدہ صریحاً شرکیہ ہے۔العیاذ باللّٰہ۔ 4رابعاً:(عقیدہ کی چوتھی خامی) قرآنی عقیدہ کے مطابق ہمیشہ زندہ رہنے والی ایک اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے: {اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ} (البقرۃ:۲۵۵) ’’اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں،وہ ہمیشہ زندہ اور قائم ودائم ہے۔‘‘ {ھُوَ الْحَیُّ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُو فَادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} (سورۃ المؤمن:۶۵) [1] کتاب ِمذکورہ ایضاً [2] شمائم امدایہ،ص۸۴