کتاب: امامت کے اہل کون؟ ( دو اہم سوالوں کے جوابات ) - صفحہ 29
’’قرآنِ مقدس کے پہلے صحیفوں میں ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اپنے نظم کے ساتھ ان صحیفوں میں تھا۔معلوم ہوا کہ قرآن مجید اُن صحیفوں میں اپنے معنیٰ کے ساتھ تھا۔اسی طرح قرآن کے معنیٰ پر مشتمل فارسی قرا ء ت بھی جائز ہوئی۔‘‘ حالانکہ قرآن وحدیث میں اسی قرآن کو کلام اللہ کہا گیا ہے اور اجماع ِ سلف صالحین سے بھی یہی ثابت ہے۔ 3ثالثاً:(عقیدہ کی تیسری خامی) حنفیہ توسل کے قائل ہیں اور دراصل مشرکین کا یہی عقیدہ تھا۔علّامہ خلیل احمد سہارنپوری کتابِ مذکورہ میں ص۷ پر لکھتے ہیں کہ: ’’ہمارے نزدیک اور ہمارے مشائخ کے نزدیک دعاؤں میں انبیاء واولیاء شہداء وصدیقین کا توسل لینا جائز ہے۔ان کی حیات میں یا بعد وفات میں۔بایں طور پر کہے کہ یا اللہ بوسیلہ فلاں بزرگ کے تجھ سے دعا کی قبولیت اور حاجت براری چاہتا ہوں۔‘‘[1] اور بعد میں لکھتے ہیں کہ ہمارے اکابر مرشد العرب والعجم حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی شیخ المشائخ قطبِ عالم مولانا رشید احمد محدث گنگوہی اور حکیم الامت حضرت مولانا شاہ محمد اشرف علی تھانوی صاحب قدس سرہ نے اپنے بزرگان کے شجرے تصنیف فرمائے ہیں جو ان کے متوسلین میں شائع اور معمول بہا ہیں۔علّامہ تھانوی کے مؤلفہ’’قربات عنداللہ‘‘اور’’مناجاتِ مقبول‘‘ اس پر شاہد ِعدل ہیں کہ ان کے ہاں بتوسل اولیاء کرام حضرتِ حق تعالیٰ سے دعا کرنا جائز اور معمول بہا ہے۔مناجاتِ مقبول کے چند اشعار ملاحظہ ہوں: ؎ صدقہ اپنے عزت و جلال کا صدقہ پیغمبر کا ان کے آل کا [1] کتابِ مذکورہ،ص:۷