کتاب: امامت کے اہل کون؟ ( دو اہم سوالوں کے جوابات ) - صفحہ 27
اطلاق کلام لفظی پر بھی ہوتا ہے جو کہ حادث ہے۔اور سورتوں اور آیات سے مل کر بنتا ہے اس وقت کلام کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف اس معنیٰ میں ہے کہ کلام اللہ،اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے۔اور مخلوقات کی تالیفات میں سے نہیں ہے۔‘‘ یہ عقیدہ بھی سلف امت کے بالکل خلاف ہے۔چنانچہ ابوبکر الخلال کہتے ہیں: (انبانی حرب الکرمانی ثنا اسحاق بن راھویہ عن سفیان عن عمروبن دینار قال: ادرکت الناس منذ سبعین سنۃ اصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰه علیہ وسلم فمن دونھم یقولون اللّٰہ خالق وما سواہ مخلوق الا القرآن فانہ کلام اللّٰہ منہ خرج والیہ یعود وقد تواتر ھذا عن ابن عیینۃ۔)[1] ’’مجھے حرب الکرمانی نے اسحٰق بن راہویہ کے واسطے سے خبردی ہے کہ عمرو بن دینار نے فرمایا کہ میں ستر سال سے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور دوسرے لوگوں سے سنتا آیا ہوں کہ وہ فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ پیدا کرنے والا ہے،اس کے علاوہ قرآن کو چھوڑ کر باقی تما م کائنات مخلوق ہے کیونکہ قرآنِ مقدس اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اس سے نکلا اور اسی کی طرف لوٹے گا۔یہ بات ابن عیینہ سے تواتر کے ساتھ مروی ہے۔‘‘ اور اس طریقہ کی بناء پر علمائے حنفیہ کے نزدیک غیر عربی زبان میں نماز پڑھنی درست ہے۔اور اصل الفاظِ قرآنیہ کی بجائے ان کا ترجمہ پڑھا جائے تو کافی ہے۔کیونکہ بقول اس کے،کلام اللہ تو صرف لوح ِمحفوظ میں ہے اور یہ تو اس کا مفہوم ہے۔ فقہ حنفی کی مشہور درسی کتاب ’’ہدایہ ‘‘صفۃ الصلوٰۃ میں ہے: [1] کتاب العلو للذھبی،ص۱۳۰ الھندی