کتاب: امامت کے اہل کون؟ ( دو اہم سوالوں کے جوابات ) - صفحہ 26
کما یقال سمعت علم فلان فموسیٰ علیہ السلام سمع صوتا دالا علی اللّٰہ تعالیٰ لکن لما کان بلا واسطۃ الکتاب والملک خص باسم الکلیم…التحقیق ان کلام اللّٰہ تعالیٰ اسم مشترک بین الکلام النفسی القدیم ومعنی الاضافۃ کون صفۃ لہ تعالیٰ و بین اللفظی الحادث المؤلف من السور والایات ومعنی الاضافۃ انہ مخلوق اللّٰہ تعالیٰ لیس من تالیفات المخلوقین۔)[1] ’’ہم قرآن مجید کے الفاظ اور حروف کو قدیم نہیں مانتے اور وہ کلام کے حادث ہونے کے قائل نہیں ہیں …بلکہ قرآن کا معنیٰ قدیم ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ قائم ہے۔اللہ تعالیٰ اس نظم کے ساتھ تلفظ کرتا ہے جو کہ اس قدیم معنیٰ پر دلالت کرنے والا ہے اسی نظم کو اللہ تعالیٰ سناتا ہے اسی خیالی تصوراتی نظم کی حفاظت کی جاتی ہے اور اس کے نقوش اور ان شکلوں کو لکھا جاتا ہے جو کہ ان حروف کے لئے وضع کی گئی ہیں۔جو حروف معنیٰ پر دلالت کرتے ہیں …پس اللہ تعالیٰ کے قول{حَتَّی یَسْمَعَ کَلاَمَ اللّٰہِ}[التوبہ:۶]کا معنیٰ ہے کہ’’ یہاں تک کہ وہ الفاظ وغیرہ سنے جو اللہ تعالیٰ کے کلام پر دلالت کرتے ہیں۔‘‘جیسے کہا جاتا ہے کہ میں نے فلاں کا علم سنا…لہٰذا موسیٰ علیہ السلام نے آواز سنی جو کہ اللہ تعالیٰ پر دلالت کرنے والی تھی چونکہ موسیٰ علیہ السلام کا سننا بغیر کتا ب اور بغیر فرشتہ کے واسطے سے تھا۔اسی لئے’’ کلیم اللہ‘‘ کا خاص لقب پایا…تحقیق یہ ہے کہ کلام اللہ پر اطلاق بالاشتراک کلام نفسی پر بھی ہوتا ہے۔اس وقت کلام کی اضافت اللہ کی طرف اس معنیٰ میں ہے کہ کلام اللہ اللہ کی صفت ہے۔اور کلام اللہ کا [1] شرح عقائد النسفیہ،ص۴۱۔