کتاب: امامت کے اہل کون؟ ( دو اہم سوالوں کے جوابات ) - صفحہ 25
کنارے پر لگ گیا۔فرمایا کہ مجھ کو کیا معلوم؟فاعلِ حقیقی خداوندِ کریم ہے۔کیا عجب کہ صحیح ہو۔دوسروں کے لباس میں آکر خودمشکل آسان کردیتا ہے اور نام ہمارا ہوتا ہے۔‘‘[1] اور حاجی امداد اللہ’’ ضیاء القلوب‘‘ (صفحہ ۲۲ )میں لکھتے ہیں کہ مراقبہ وحدت ہمہ اوست اور {ہُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ} [الحدید:۳]’’اس کا وجود ہر جگہ جلوہ فرما ہے اور ابتداء و انتہا میں وہی ہے۔‘‘زبان سے کہے اور تصور کرے کہ اس کے سوا کوئی نہیں۔اور اسی خیال میں مستغرق ہو جائے۔‘‘ اور پھر چند سطور کے بعد لکھتے ہیں کہ دیگر مراقبات بہت ہیں جیسے: {فَأَیْْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہ}[البقرہ:۱۱۵] اور{ إِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْْکُمْ رَقِیْباً}[النسآء:۱] اور { وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْْئٍٍ مُّحِیْطاً}[النسآء:۱۲۶] اور{وَفِیْ أَنفُسِکُمْ أَفَلَا تُبْصِرُوْنَ}[الذّٰریٰت:۲۱] ’’جدھر منہ پھیروادھر ہی خدا ہے۔خدا تمہاری حالتوں کا معائنہ فرماتا ہے۔خدا ہر چیز کو احاطہ کیئے ہوئے ہے۔خدا تم میں ہے کیا تم نہیں دیکھتے ہو‘‘؟[2] 2ثانیاً:(عقیدہ کی دوسری خامی) حنفیہ مابین الدفتین(جو چیز دوگتوں یا تختیوں کے درمیان ہے) قرآن کو کلام اللہ(اللہ کا کلام) نہیں مانتے۔’’شرح عقائد النسفیہ‘‘ حنفی مذہب کی مشہور کتاب ہے اور مدارس میں پڑھائی جاتی ہے۔اس کے صفحات ۴۱ سے ۴۴ تک دیکھنا چاہیئے۔چند اقتباسات پیش کئے جاتے ہیں: (فنحن لا نقول بقدم الالفاظ والحروف وھم لا یقولون بحدیث الکلام بل ھو معنی قدیم قائم بذات اللّٰہ تعالیٰ یلفظ ویسمع بالنظم الدال علیہ ویحفظ بالنظم المخیل ویکتب نقوش واشکال موضوعۃ لحروف الدالۃ علیہ…فمعنی قولہ تعالٰی{حَتَّی یَسْمَعَ کَلاَمَ اللّٰہِ}[توبہ:۶]یسمع ما یدلک علیہ [1] ایضاً،ص۱۰۰ [2] شمائم امدادیہ ایضاً،ص۱۰۰