کتاب: امامت کے اہل کون؟ ( دو اہم سوالوں کے جوابات ) - صفحہ 23
بلند جگہ پر ہے۔اس مقام پر کوئی جھگڑا نہیں ہے اور اس سے مالک الملک کا بلند مقام پر ہونا لازم نہیں آتا۔اس (شرح) کا اور سلف کا ان آیات اور احادیث سے جو کہ فوقیت کی صفت اور صفتِ علو پر دلالت کرنے والی ہیں،خدا تعالیٰ کیلئے صفت ِعلو ثابت کرنا مسلم ہے،لیکن وہ مؤوّل ہے( یعنی تاویل کیا گیا ہے) کہ اس سے مکان کی بلندی مراد نہیں بلکہ اس سے مرتبہ اور شان کی بلندی مراد ہے۔ابن ہمام کی کتاب مسائرۃ مع شرحہ مسامرۃ کے صفحہ ۳۰ تا ۳۴ پربھی اسی طرح کا ذکر ہوا ہے۔‘‘ موجودہ احناف کے پیر ومرشد حاجی امداد اللہ صاحب کی ملفوظات معروف بہ’’شمائمِ امدادیہ‘‘ سے کچھ اقتباسات پیش کئے جاتے ہیں۔صفحہ ۳۸ پر ہے: (بندہ قبلِ وجود ِخود باطن خدا تھا اور خدا ظاہر بندہ) ’’بندہ اپنے وجود ظاہری سے پہلے خود ہی باطنی طور پر خدا تھا۔اب بندہ ہی خدائے ظاہر ہے۔‘‘ دلیل میں پیش کیا ہے کہ(ایک حدیثِ قدسی میں ) اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے: ((کنت کنزا مخفیا …))[1] ’’میں پوشیدہ خزانہ تھا…‘‘الخ اور صفحہ۵۹ پر ہے کہ فرمایا : {إِنِّیْٓ أَنَا رَبُّکَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْْکَ} (سورۂ طٰہٰ:۱۲) ’’بے شک میں تیرا رب ہوں،پس اپنے جوتے اتاردو۔‘‘ ’’جو طور پر آواز آئی تھی وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے باطن سے آئی تھی،سب انسانوں میں موجود ہے۔‘‘[2] [1] شمائم امدادیہ،ص۳۸ [2] حوالہ سابقہ،ص:۵۹