کتاب: امامت کے اہل کون؟ ( دو اہم سوالوں کے جوابات ) - صفحہ 22
اثبات صفت العلو للّٰہ تعالیٰ انتھی وغرابتہ لا تخفیٰ اذ النزول والتنزیل تعدیتھا بعلیٰ،والمراد بنزولہ ھٰھنا من جھۃ السماء علٰی ان الکلام فی علوا لمکان علیٰ قلب الرسول صلی اللّٰه علیہ وسلم ولا نزاع فی ھٰذا المقام ولا یلزم من ذالک علوالمکان للملک العلام۔واما قولہ:وکلام السلف فی اثبات صفۃ العلو کثیر جداً بعد ما ذکر بعض الاٰیات والاحادیث الدالۃ علیٰ صفۃ الفوقیۃ و نعت العلویۃ فسلّم الاانہ مؤول کلہ بعلو المکانۃ… وھٰکذا نحوہ فی المسائرۃ لا بن ھمام مع شرح المسامرۃ۔)[1] ’’اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق پر بلند ہونا،اللہ تعالیٰ کے اس قول سے ثابت ہوتا ہے: {وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ} (سورۂ الانعام:۱۸) ’’اور وہ بلند اور غالب ہے اپنے بندوں پر۔‘‘ اس سے مرتبہ کی بلندی مراد ہے۔نہ کہ کوئی مکان اور جگہ کے اعتبار سے بلندی مراد ہے۔اہلِ سنّت والجماعت کے نزدیک یہی مراد ہے۔بلکہ اسلام کے باقی فرقوں معتزلہ ،خوارج اور اہلِ بدعت کے نزدیک بھی یہی مراد ہے سوائے مجسمہ فرقے اور جاہل حنبلیوں کے جو کہ اللہ تعالیٰ کے لئے جہت کے قائل ہیں۔اللہ تعالیٰ اس سے بلند اور بڑا ہے۔شارح کا اللہ تعالیٰ کے قول’’اتارا اس کو جبریلِ امین نے تیرے دل پر‘‘ سے اللہ تعالیٰ کے لئے صفت ِعلو ثابت کرنا عجیب وغریب بات ہے جو کہ بالکل واضح ہے کیونکہ نزول اور تنزیل علو کا پتہ دیتے ہیں۔یہاں نزول سے مراد آسمان کی طرف سے اترنا ہے۔اس بنا پر کہ کلام،نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل سے کسی [1] شرح فقہ الاکبرملا علی قاری،صفحہ ۱۵۵ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ