کتاب: امامت کے اہل کون؟ ( دو اہم سوالوں کے جوابات ) - صفحہ 21
[{ثم استویٰ} استولٰی{علی العرش} اضاف الاستیلاء الی العرش وان کان سبحانہ وتعالیٰ مستولیا علٰی جمیع المخلوقات لان العرش اعظمھا واعلاھا وتفسیر العرش بالسریر والاستواء بالا ستقرار کما تقولہ المشبھۃ باطل،لانہ تعالیٰ کان قبل العرش والمکان،وھو الان کما کان لان التغیر من صفات الاکوان۔][1] ’’{ثم استویٰ }کا معنیٰ کرتے ہیں استولیٰ یعنی اللہ تعالیٰ غالب ہوا عرش پر۔استیلاء یعنی غلبہ کی نسبت عرش کی طرف ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ جمیع مخلوق پر غالب ہے۔کیونکہ عرش تمام مخلوق سے بڑا اور اونچا ہے۔عرش کا معنیٰ چار پائی یا تخت کرنا اور استویٰ کا معنیٰ استقرار(یعنی قرار پکڑنا) کرنا جیسا کہ فرقہ مشبہہ کا عقیدہ ہے،باطل ہے۔کیونکہ ایک حالت سے دوسری کی طرف تغیر،ممکنات کی صفات سے ہے۔‘‘ اور ملا علی قاری’’ شرح فقہ الاکبر‘‘میں لکھتے ہیں: (واما علوہ تعالیٰ علی خلقہ المستفاد من نحو قولہ تعالٰی{وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ}[ الانعام:۱۸] فعلو مکانۃ ومرتبۃ لا علو مکان کما ھو مقرر عند اھل السنۃ والجماعۃ بل وسائر طوائف الاسلام من المعتزلۃ والخوارج وسائر اھل البدعۃ الاطائفۃ من المجسمۃ وجھلۃ من الحنابلہ القائلین بالجھۃ تعالیٰ اللّٰہ عن ذلک علوا کبیراً۔وقد اغرب الشارح حیث قال فی قولہ تعالٰٰی{نَزَلَ بِہِ الرُّوحُ الْأَمِیْنُ }[الشعراء:۱۹۳]فی ذلک [1] مدارک التنزیل،ج۲،ص۵۶