کتاب: امامت کے اہل کون؟ ( دو اہم سوالوں کے جوابات ) - صفحہ 19
ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صرف یہی بتایا ہے کہ وہ عرش پر مستوی ہے اور اپنے مستوی ہونے کی کیفیت ذکر نہیں کی۔‘‘ ثابت ہوا کہ احناف کی تاویلیں اجماعِ سلف کے خلاف ہیں اور سلفِ صالحین کا اجتماعی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر ہے۔ امام بیہقی کتاب’’الاسماء والصفات‘‘صفحۃ ۳۹۱ طبع الہند میں امام اوزاعیؒ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: [کنا والتابعون متوافرون نقول: ان اللّٰه تعالیٰ ذکرہ فوق عرشہ ونؤمن بماوردت السنۃ بہ من صفاتہ جل وعلا…] [1] ’’ہم کثیر تابعین کی موجودگی میں کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے اوپر ہے۔اللہ تعالیٰ کی اُن تمام صفات پر ہمارا ایمان ہے جو بھی سنّت سے ثابت ہیں۔‘‘ حافظ ابوعبداللہ بطہ کتاب’’الابانۃ‘‘میں فرماتے ہیں کہ: [اجمع المسلمین من الصحابۃ والتابعین ان اللّٰه علی عرشہ فوق سمٰواتہ بائن من خلقہ] [2] ’’ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمۃ اللہ علیہم کا اس پر اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے اوپر آسمانوں پر اپنی مخلوق سے بالکل الگ تھلگ ہے۔‘‘ اسی طرح آئمہ دین ابواسماعیل انصاری، عبدالرحمن بن حاتم،ابونصر السجزی،ابولحسن اشعری،ابوعمر الطلمنکی،ابونعیم اصفہانی اور ابوبکر اسماعیل الصابونی نے بھی سلف کا اجماع نقل کیا ہے۔[3] [1] کتاب الاسماء والصفات للبیہقی،ص۳۹۱ [2] کتاب الابانۃ [3] کمافی العلو للذہبی