کتاب: امامت کے اہل کون؟ ( دو اہم سوالوں کے جوابات ) - صفحہ 16
صحابی ٔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا:’’کیا اہلِ کتاب نے اپنے احبار ورہبان کی عبادت کی تھی؟فرمایا:نہیں بلکہ ان کے حرام کردہ کو حرام مانتے تھے اور ان کے حلال کردہ کو حلال مانتے تھے۔اسی چیز کو اللہ نے عبادت قرار دیا اور اسی قبیح حرکت کی بنا پر یہ ارشاد فرمایا کہ’’انہوں نے اپنے علماء کو اپنا رب مان لیا ہے۔‘‘ امام قرطبی ؒنے اسی آیت کے تحت فرمایا ہے: [جعلوا احبارھم ورھبانھم کا لا رباب حیث اطاعوھم فی کل شیے] [1] ’’انہوں نے اپنے علماء اور راہبوں کو رب کا درجہ دے دیا تھا کیونکہ انہوں نے ہر بات میں ان کی اطاعت کی تھی۔‘‘ افسوس ہے کہ ہمارے معاشرے میں بھی تقلیدِ جامد کی یہی صورت کارفرما ہے اور پورے دین کی عمارت ایک امام پر قائم کردی ہے اور تمام احکام میں صرف ان کا(یعنی ان سے منسوب) فتویٰ اور قول قبول کیا جاتا ہے۔ یہ جمود،عقیدہ کا زبردست انحراف ہے۔خود تمام آئمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم اس جمود سے برے ہیں۔لہٰذا جن آئمہ مساجد کی یہ روش ہو ان کی اقتداء کیسے درست ہوسکتی ہے؟ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اصلاحِ عقیدہ کی توفیق عطا فرمائے اور کتاب وسنّت کی سچی محبت عطا فرمائے۔ وصلی اللّٰہ تعالٰی علٰی محمد وعلٰی آلہ وصحبہ واھل اطاعتہ اجمعین۔ وکتبہ/عبداللہ ناصر رحمانی امیر جمعیۃ اہلحدیث صوبہ سندھ [1] تفسیر قرطبی جلد۸ ص۱۲۰