کتاب: امامت کے اہل کون؟ ( دو اہم سوالوں کے جوابات ) - صفحہ 15
قارئینِ کرام! تقلیدِ شخصی کے شرک ہونے پر قرآنِ حکیم کی مندرجہ ذیل آیت انتہائی قابل ِغور ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے: {اِتَّخَذُوْا أَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ أَرْبَاباً مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَالْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَمَا أُمِرُوْا إِلاَّ لِیَعْبُدُوْا إِلَـہاً وَّاحِداً }[1] (سورۃ التوبہ:۳۱) ’’ انہوں نے اپنے علماء اور مشائخ اور مسیح ابنِ مریم کو اللہ کے سوا معبود بنا لیاحالانکہ ان کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔‘‘ اس آیت سے واضح ہورہا ہے کہ اہلِ کتاب نے اپنے علماء اور راہبوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنایا ہوا تھا،حالانکہ اللہ کا فرمان یہ تھا کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اور ان کا اپنے علماء کو رب بنانے کا معنیٰ یہ بھی نہیں کہ وہ ان کی عبادت کرتے تھے،یا ان کے نام کا(جانور) ذبح کرتے تھے یا انہیں سجدہ کرتے تھے،بلکہ رب بنانے کا مطلب یہ ہیکہ وہ ہر چیز میں اپنے علماء کی اطاعت کیا کرتے تھے۔چنانچہ سنن ترمذی میں اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان موجود ہے: ((اَمَّا اَنَّھُمْ لَمْ یَکُوْنُوْا یَعْبُدُوْنَھُمْ وَلٰکِنَّھُمْ کَانُوْا اِذَا اَحَلُّوْالَھُمْ شَیْئاً اِسْتَحَلُّوْہُ وَاِذَا حَرَّمُوْا عَلَیْھِمْ شَیْئاً حَرَّمُوُہُ)) [2] ’’وہ ان کی عبادت نہیں کیا کرتے تھے بلکہ جب ان کے علماء ان کے لیے کسی چیز کو حلال کرتے تو اسے حلال مان لیتے تھے اور اگر کسی چیز کو حرام کرتے تو اسے حرام مان لیتے تھے۔‘‘ گویا ہر معاملہ میں علماء کی اطاعت اور ان کے(اپنی طرف سے)حلال وحرام کردہ کو حلال وحرام قبول کرنا ہی انہیں رب بنانا تھا۔اور ظاہر ہے یہ شرک ہے۔ [1] سورۂ توبہ آیت:۳۱ [2] ترمذی