کتاب: امام ابن حزم اور جمہور کا تصورِ اجتہاد۔ تقابلی جائزہ - صفحہ 10
کتاب: امام ابن حزم اور جمہور کا تصورِ اجتہاد۔ تقابلی جائزہ مصنف: ڈاکٹر طاہر الاسلام عسکری پبلیشر: شعبۂ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب ترجمہ: مقدمہ موضوع کا تعارف(Introduction to the Topic) اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے زندگی گزارنے کا جو طریقہ متعین کیا ہے، اسے شریعت اسلامیہ کا نام دیا ہے۔ دین اسلام کی خصوصیات میں سے ایک نمایاں خصوصیت اس کی جامعیت اور ہمہ گیریت ہے،یعنی اس میں انسانی زندگی کے ہر مسئلے کا حل موجود ہے۔مسائل کا یہ حل کبھی تو صریح الفاظ کی صورت میں ہوتا ہے اور کبھی وحی (قرآن و سنت)کے الفاظ میں گہرے غوروفکر اور تلاش و جستجو کے بعد میسر آتا ہے؛وحی سے مسائل زندگی کا حل تلاش کرنے کا عمل ’اجتہاد‘ کہلاتا ہے؛اجتہاد ہی در حقیقت اسلامی شریعت کی جامعیت اور ابدیت کا ضامن ہے۔ اجتہاد کے باب میں فقہاے اسلام اور مجتہدین امت کا طریق کار متنوع اسالیب کا حامل رہاہے؛ ان مختلف مناہج کی بنا پر متعدد مدارس اجتہاد وجود میں آئےجو اہل الحدیث (فقہاےمحدثین )اہل الراے (فقہا) اور اہل الظاہر کے ناموں سے معروف ہیں۔یہ تینوں مکاتب فکر اپنی انفرادی خصوصیات کی بنا پر جداگانہ حیثیت رکھتے ہیں تاہم محدثین اور فقہا میں اشتراک کی بنیادیں زیادہ مضبوط ہیں کیوں کہ مصادر و ماخذ اجتہاد کے ضمن میں قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس پر ان سب کا اتفاق ہے؛اگرچہ ان کے علاوہ بقیہ مصادر میں ان کا باہمی اختلاف ہے ۔ اس کے برعکس ارباب ظاہر قرآن، حدیث اور اجماع کی حد تک تو دیگر مکاتب اجتہاد سے متفق ہیں لیکن وہ قیاس کے سختی سے مخالف ہیں؛ علاوہ ازیں ان کے ہاں’دلیل‘ کے نام سے ایک چوتھا ماخذ بھی ہے جسے دیگر مدارس فقہ کے ہاں استناد و حجیت کا درجہ حاصل نہیں ہے ۔ ماخذ و مصادر میں اختلاف کے ساتھ ساتھ ان سے استنباط مسائل کا طرز بھی مختلف ہے؛ جمہورعلماے مجتہدین نصوص کی تعلیل اور ان میں پوشیدہ حکمتوں کی تلاش اور تفحص پر زوردیتے ہیں جب کہ اہل ظاہر اس کی تردید کرتے ہوئے محض ظاہر نصوص ہی سے تمسک قائل ہیں۔اس اختلاف کے نتیجے میں ان تمام مکاتب اجتہاد کو دو گروہوںمیں تقسیم کیا جاسکتا ہے:ایک جمہور جس میں مذاہب اربعہ ،یعنی فقہاو محدثین اور دوسرا ارباب ظاہر ،جس کی ایک نمایا ں ترین شخصیت امام ابن حزم ظاہری رحمہ اللہ (م456ھ)ہیں۔ ظاہری مکتب کے حوالےسے اگر چہ پہلے امام تو امام داؤد بن علی اصفہانی رحمہ اللہ (م 270ھ) مشہور ہوئے لیکن بعد ازاں اس کے متعین قواعد ضوابط کی توضیح و تشریح یا تشکیل جدید میں امام ابن حزم رحمہ اللہ کی مساعی انتہائی اہمیت کی حامل ہیں؛ فی زمانہ ظاہری فقہ اوراس کے اصولِ اجتہاد کا اساسی ماخذ امام ابن حزم رحمہ اللہ ہی کی تالیفات ہیں۔ امام موصوف کی کتاب ’المحلّیٰ بالآثار‘، جو کہ گیارہ ضخیم مجلدات پر مشتمل ہے، فقہ ظاہری کی بھر پور نمایندگی کرتی ہے۔ اسی طرح اصول فقہ کے باب میں ابن حزم رحمہ اللہ کی’الإحکام في أصول الأحکام‘ خاص شہرت رکھتی ہےاور اسے ’اصول‘ کی امہات الکتب میں شمار کیا جاتا ہے۔ اصول فقہ پر امام ابن حزم رحمہ اللہ نے اور بھی کئی کتابیں لکھی ہیں جن میں ’مسائل أصول الفقه‘، ’مراتب الإجماع‘،