کتاب: اسلام میں دولت کے مصارف - صفحہ 99
کے آخری دور میں عدم جواز مزارعت کا خوب چرچا کیا اور اس لحاظ سے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت بڑے زمیندار بھی تھے۔ اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم مزارعت کے مسئلہ کی تحقیق کے لیے آپ کے پاس ہی آتے رہے۔ (3) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (م50ھ) (4) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ (م74بعمر 84 سال) (5) حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ (م65ھ) حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ کی مرویات (1) (( عن جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنھما ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نھی عن کراء الارض )) (مسلم۔ کتاب البیوع باب کراء الارض) ترجمہ: " حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنھما فرماتے ہیں کہ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرایہ پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ واضح رہے کہ زمین کے کرائے سے مراد صرف نقدی یا ٹھیکہ نہیں بلکہ اس سے مذکورہ بالا چار صورتیں مراد ہیں۔ (2) حضرت جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( من کانت لہ ارض فلیزرعھا فان لم یزرعھا فلیزرعھا اخاہ )) (ایضا ) ترجمہ: " اگر کسی کے پاس زمین ہے تو وہ اسے خود کاشت کرے ورنہ کاشت کے لیے اپنے بھائی کو دےد ے"