کتاب: اسلام میں دولت کے مصارف - صفحہ 92
بھی ہے جنہیں خود حکومت نے بعض افراد کو عطا کیا ہے ۔درج ذیل حدیث میں دونوں صورتوں میں زمین کو واپس لینے کی صراحت موجود ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  ’’عادی الارض للہ وللرسول ثم لکم من بعد فمن احیار ارضا میتۃ فی لہ ولیس لمحتجر حق بدثلث سنین‘‘ (فقہ السنہ ج3صفحہ 171) ترجمہ: ’’ بنجر زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے پھر اس کے بعد وہ تمہارے لیے ہے۔ پس جو کوئی مردہ زمین آباد کرے وہ اسی کی ہے اور بےکار روک رکھنے کے لیے تین سال کے بعد کوئی حق نہیں ہے۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کو مکہ اور مدینہ کے درمیان عقیق نامی وادی میں ایک وسیع جاگیر عطا فرمائی تھی وہ اس سارے ٹکڑے کو آباد نہ کرسکے اور تین سال سے زائد مدت گزر گئی تا آنکہ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا دور آگیا۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ جتنی زمین تمہاری قوت کاشت سے زیادہ ہے وہ ہمارے حوالے کردو تاکہ اسے مسلمانوں میں تقسیم کردیا جائے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے جو قطعہ زمین مجھے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا کیا ہے وہ آپ واپس کیسے لے سکتے ہیں؟ میں ہرگز واپس نہ کروں گا۔‘‘حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا’’ واللہ تجھے یہ کام کرنا پڑے گا۔‘‘ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے زائد زمین واپس لے کر اسے مسلمانوں میں بانٹ دیا۔(کتاب الخراج از یحیٰ بن آدم ۔طبع مصر صفحہ نمبر93 کنزالعمال مطبوعہ دکن ج 2صفحہ نمبر 191 بیہقی دکن ج6صفحہ نمبر 138)