کتاب: اسلام میں دولت کے مصارف - صفحہ 83
ہے کہ خود حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی علی الاطلاق فاضلہ دولت کی حرمت کے قائل نہ تھے بلکہ اس حرمت کو حالات سے مشروط رکھتے تھے۔ یعنی جب اسلامی معاشرہ میں طبقاتی تقسیم فروغ پانے لگے، مالدار زیادہ سے زیادہ دولت مند ہوتے جائیں اور نادار لوگ نادار تر بنتے جائیں' جاگیرداری اور سرمایہ داری بڑھ رہی ہو' لوگوں میں زکوٰۃ کے علاوہ انفاق فی سبیل اللہ کا جذبہ ختم ہو رہا ہو تو ایسی صورت میں حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فتویٰ کے مطابق فاضلہ دولت حرام ہو جاتی ہے اورحضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پالیسی کے مطابق حکومت کو یہ حق حاصل ہے کہ اگر زکوٰۃ سے طبقاتی تقسیم ختم یا کم نہ ہوتی تو ایسے اقدامات کرے جس سے فاضلہ دولت امراء کے ہاتھوں سے نکل کر حاجت مندوں تک پہنچ سکے۔