کتاب: اسلام میں دولت کے مصارف - صفحہ 79
مقرر کیا تھا۔ (بخاری۔ کتاب المناقب. باب ہجرۃ النبی واصحابہ الی المدینۃ) اعتراض کی گنجائش کے دو واقعات تو اوپر مذکورہ ہوئے۔ بخاری میں ایک تیسرا واقعہ بھی مذکور ہے جو یہ ہے کہ ’’ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نےمہاجرین اولین کا وظیفہ تو چار ہزار درہم مقرر کیا مگر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ساڑھے تین ہزار۔ آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ’’ آپ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ رضی اللہ عنہ کا وظیفہ کیوں کم رکھا حالانکہ وہ بھی مہاجرین اولین میں سے ہیں۔‘‘ آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ کی ہجرت اس کے ماں کے ذیل میں ہوئی تھی۔ وہ اس کے برابر نہیں ہوسکتے جس نے اپنی ذات سے ہجرت کی۔‘‘ (حوالہ ایضاً) مندرجہ بالا تصریحات سے واضح ہوجاتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وظائف کے تعین میں اسلامی خدمات، رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرابت اور محبت کو ملحوظ رکھا۔ اگر آپ رضی اللہ عنہ کا یہ جذبہ قابل قدر اور نہایت نیک نیتی پر مبنی تھا مگر وظائف کی تقسیم میں کسی کی احتیاج کو ملحوظ رکھنا ہی وہ بہترین پالیسی تھی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نےاختیار تھا۔ مراتب و قرابت کے لحاظ سے وظائف کی تقسیم کےخطرناک تنائج جلد ہی سامنے آنے لگے مثلاً ایک طبقہ کی دولت کا بہت بڑھ جانا اور سال بہ سال منافع کے ذریعہ بڑھتے چلے جانا۔ اقتصادیات کی روسے یہ ایک جانی پہچانی حقیقت ہے کہ نفع میں اضافہ راس المال کے اضافہ کے تناسب سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ یہی وہ نتائج تھے جن کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ