کتاب: اسلام میں دولت کے مصارف - صفحہ 60
اپنے پروردگار حقیقی سے جا ملے۔ تعامل صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنھم اسوۂ حسنہ، امہات المؤمنین اور خلفائے راشدین کی سیرت کے بعد اب عام صحابہ کرام کی طرف نگاہ دوڑایئے تو معلوم ہوگا کہ ان میں صرف ایک فیصد ایسے حضرات تھے جنہیں دولت مند کہا جا سکتا ہے۔ جبکہ صحابہ کی اکثریت یا تو غریب تھی یا ایسے لوگ تھے جنہوں نے وسائل موجود ہونے کے باوجود فقر، زہد وقناعت اور سادگی کو تعیشانہ زندگی پر ترجیح دی تھی اور اپنے پاس فاضلہ دولت رکھنے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ ایسے طبقہ کے سرخیل حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ م 33ھ؁: اسلام لانے سے پیشتر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پیشہ رہزنی تھا۔ آغاز اسلام میں ہی دربار نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر اسلام لائے اور سختیاں برداشت کیں اور ساری زندگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے اور مشاہدہ کرتے رہے کہ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ مال و دولت آتا تو آپ سب کچھ ہی دے دِلا کر فارغ ہو جاتے تھے۔ پھر ایک دفعہ شام سے تھوڑا پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے کہ احد پہاڑ نظر آیا جسے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ: "اے ابو ذر! اگر اس پہاڑ کے برابر بھی سونا میرے پاس ہو تو مجھے یہ اچھا نہیں لگتا کہ تین دن تک میرے پاس اس میں سے ایک اشرفی بھی رہ جائے الا یہ کہ مجھ پر کسی کا قرض ہو۔"(بخاری، کتاب الرقاق، باب ..... مثل احد ذھباً)