کتاب: اسلام میں دولت کے مصارف - صفحہ 139
خدا کے تصور سے سوشلزم یک سرکاری عادی ہی نہیں بلکہ اس میں خدا کے ماننے والوں کا تمسخر بھی اڑایا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں سوشلزم نظام کے علمبردار،برسراقتدار طبقہ اگر معاشرہ کو اچھے اخلاق سکھانے اور برائیوں سے پاک کرنے کے متمنی ہیں۔ تو ان کا یہ خیال خام ہے۔ ہر آنکہ تخم بدی کشت وچشم نیکی داشت دماغ پیچیدہ پخت وخیال باطل بست پھر یہ لوگ اپنے قول وفعل میں بھی مخلص نہیں ہیں ۔پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں محمود عباس بخاری نے جو پیپلزپارٹی کے ہی منتخب شدہ قومی اسمبلی کے رکن تھے۔15 جون 74ء؁ کو قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کےدوران جو تقریر کی تھی وہ بحوالہ نوائے وقت درج ذیل ہے: ڈاکٹر بخاری،شیخ رشید اور ڈاکٹر مبشر حسن پر خوب برسے اور کہا کہ لمبی لمبی کاریں استعمال کرنے والے بڑے بڑے بنگلوں میں رہنے والے کس طرح سوشلسٹ بن سکتے ہیں ان کو تو کھدرے کپڑے پہننے چاہیں۔ اگر آج وہ لاکھوں کی جائیداد سے الگ ہو جائیں تو میں بھی اپنی چھوٹی موٹی جائیداد چھوڑ دوں گا۔ ڈاکٹر بخاری نے اپنےحلقہ قصور اور چونیاں کا ذکر کیا کہ ساڑھے چار ہزار مربع میل کے اس حلقہ میں عوامی مطالبات کے پورا کرنے والی حکومت نے اب تک کتنے سکول، ہسپتال اور کارخانے قائم کیے ہیں ۔کیا ان لوگوں کا حق نہیں تھا؟ انہوں نے کہا کہ بےشک مجھے گولی ماردی جائے مگر میں سچ بات کہوں گا۔ کارخانوں کا سارا زور گوجرانوالہ اور شیخوپورہ روڈ پر کیوں ہے؟ ڈاکٹر بخاری پولیس کے انتظام پر سخت معترض تھے۔ وہ زوردار لہجے میں کہنے لگے کہ ہماری بہنوں نے جس پیپلزپارٹی