کتاب: اسلام میں دولت کے مصارف - صفحہ 135
ہے تو اسے استعمال کیوں نہیں کرتے؟ یہ تو خدا کی ناشکری ہے کہ اس کی دی ہوئی نعمت کا بالکل مظاہرہ ہی نہ ہو۔‘‘ آج کل نمود و نمائش کے دلدادہ اور مسرفین اپنے اسراف کے حق میں مندرجہ بالا واقعہ ہی پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ ایسے لوگ آج بھی معاشرہ میں موجود ہیں اور تقریبا ہرایک کو ان کا پتہ ہے۔ ایسے لوگ دوسری انتہا کو پہنچے ہوتے ہیں۔ اسلام میں ایسی رذالت اور بخل بھی گوارا نہیں۔ اسلام سادگی، صفائی اور کفایت شعاری کا ضرور حامی ہے لیکن بخل ایک گناہ عظیم ہے خواہ دوسروں کے حق میں ہویا ابنے حق میں۔ کفایت شعاری سےانسان میں وہ ایثار پیدا ہوتا ہے جس سے وہ اپنی ضرورت بھی پس پشت ڈال کر اپنے بھائی کی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ اس صحابی کا کردار، جس کے حق میں یہ آیت﴿ وَيُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ](الحشر:9)سورۃ الحشر، نازل ہوئی، کتنا بلند تھا۔ جس نے رات کے وقت اپنے گھر میں موجود تمام سامان خورد نوش اپنے مہمان کے حوالے کرکےچراغ گل کردیا اور اندھیرے میں مہمان پر یوں ظاہر کیا جیسے وہ بھی اس کے ساتھ کھا رہا ہے۔ ادھر بیوی نے بچوں کو بہلا پھسلا کر بھوکا ہی سلادیا۔ اور اس سے بھی بڑھ کر میدان جنگ میں زخموں سے چور صحابہ کا وہ منظر ہے جبکہ نزع اورشدید پیاس کےعالم میں بھی پانی کا پیالہ اپنے دوسرے بھائی کو پیش کرنے کی تلقین کرتے رہے۔ پانی کا صرف ایک ہی پیالہ تھا۔ ایک بھائی نے دوسرے کو، دوسرے نےتیسرے کو پیش کرتے کرتے بالآخر سات صحابہ نے اپنی جان،