کتاب: اسلام میں دولت کے مصارف - صفحہ 121
نہیں آتی تو اسے ایسی زمین کی ملکیت ہی سے دست بردار ہوجانا چاہیے۔ خواہ وہ اسے فروخت کردے۔[1]یا ہدیۃً کسی مسلمان بھائی کو دیدے۔ بصورت دیگر حکومت کو یہ حق حاصل ہے ک ایسی زمین مالک زمین ( جسے حکومت نے زمین عطا کی) سے زبردستی واپس لے لے۔ ایک اہم سوال؟ اس مسئلہ پر ایک اور پہلو سے بھی غور کرنا ضروری ہے۔ یہ تو ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ عہدنبوی صلی اللہ علیہ وسلم ، صدیقی، فاروقی، عثمانی میں بٹائی کا سلسلہ بھی چل رہا تھا اور زمین کو کرایہ پر دینے کا بھی۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں یہ عدم جواز مزارعت کا مسئلہ یک لخت کیوں اٹھ کھڑا ہوا؟ اور اٹھا بھی اس شدت سے کہ اکثر لوگ اس مسئلہ پرچہ میگوئیاں کرنے لگے حالانکہ احادیث بھی وہی تھیں جو صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنی تھیں یا ایک آدھ واسطہ سے سنی تھیں۔ یہ جو رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ ، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ وغیرہم دور معاویہ رضی اللہ عنہ میں عدم جواز مزارعت کی حدیثیں سنانے لگے تھے۔ انہوں نے اس سے بیشتر دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم یا صدیقی رضی اللہ عنہ یا فاروقی رضی اللہ عنہ یا عثمانی رضی اللہ عنہ میں ہی کیوں نہ یہ حدیثیں نشر کیں؟ جہاں تک میں نے اس مسئلہ پر غور کیا ہے مجھے یہی معلوم ہوا کہ عہد [1] ابورافع بیان کرتےہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خاندان کو ایک زمین عطا کی تھی جسے وہ آباد نہ کرسکے تو حضرت عمررضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اسے 8ہزار دینار میں فروخت کردیا۔(مسئلہ ملکیت زمین صفحہ نمبر45)