کتاب: اسلام میں دولت کے مصارف - صفحہ 115
صورت بھی خراجی قرار نہیں دیا جاسکتا، باقی رہا مزارعت کا معاملہ تو وہ خراجی زمین تھی یا غیر خراجی سب کا معاملہ بٹائی پر ہی ہوا تھا۔ منکرین مزارعت کی طرف سے خیبر کے بٹائی کےمعاملہ پر کچھ اور بھی اعتراض کرکے اسے بٹائی کے معاملہ سے ہی خارج کرنےکی کوشش کی جاتی ہےمگر ایسے اعتراض چونکہ محض ’’اعتراض برائے اعتراض‘‘ ہیں۔ لہذا اس مختصر مقالہ میں ان کا ذکر کر نا مشکل ہے۔ 2۔ قائلین مزارعت کی طرف سے جواز مزارعت کی دوسری دلیل مواخات کے سلسلہ میں مہاجرین کا نصف پیداوار پر کام کرنا ہے۔ اس دلیل کا منکرین مزارعت یہ جواب دیتے ہیں کہ عدم جواز مزارعت کا اصل مقصد مسلمانوں کا آپس میں ذاتی خود غرضی اور طمع کے بجائے ایثار و رفاقت سے کام لینا ہے اور سلسلہ مؤاخات میں یہ مقصد پہلے ہی بدرجہ اتم پایا جاتا ہے۔ یعنی انصار تو اس بات پر بھی تیار تھے کہ اپنی زمین مزارعت یا بٹائی پر دینے کے بجائے مہاجرین کو آدھی زمین کا مالک بنا دیں لیکن مہاجرین کی خودداری نے انصار کے اتنے بڑے ایثار اور قربانی کو قبول نہ کیا تو اب اس کی دوسری صورت یہی باقی رہ جاتی تھی کہ انصار کی زمین یا نخلستان میں مہاجرین کام کریں اور پیداوار نصف تقسیم کر لی جائے۔ مہاجرین و انصار کا یہ معاہدہ اگرچہ اپنی ظاہری شکل میں مزارعت ہی نظر آتا ہے لیکن مققصد کے لحاظ بالکل مختلف ہے۔ لہذا اس واقعہ کی بٹائی کے جواز کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ 3۔ منکرین مزارعت کی طرف سے اپنے موقف کی صحت کی تائید میں حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ کے بٹائی سے رجوع کے واقعہ کو بھی پیش کیا جاتا ہے۔