کتاب: اسلام میں دولت کے مصارف - صفحہ 113
سب سےزیادہ جاننےوالے(یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ)نےمجھےخبردی ہےکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےکھیتی کوبٹائی پردینےسےمنع نہیں فرمایابلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےیہ فرمایاہےکہ اگرکوئی اپنےبھائی کوزمین ہدیہ کےطورپردےتویہ بات اس کےلیےاجرت پردینےسےبہترہے۔،،(بخاری ۔ کتاب الوکالہ۔ باب المزارعۃ بالشطرونحوہ)(مسلم ۔کتاب البیوع ۔ باب کراء الارض) اس تطبیق سےمتعلق مختلف روایت درج کرنےکےبعد امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ منتقی الاخبار کتاب المساقات والمزارعۃ کےآخرمیں فرماتےہیں کہ: "وبالاجماع تجوز الاجارة ولاتجب الاعادة فعلم انه اراد الندب" ترجمہ:’’کرائےپرزمین دینابالاجماع جائز ہےاوربطلورعاریت دینابالاتفاق واجب نہیں۔لہذا معلوم ہواآپ رضی اللہ تعالی عنہ کاارادہ استحباب کاتھا۔،، ہمیں اس نتیجہ سےتھوڑا سااختلاف ہےاوروہ یہ ہےکہ جواز مزارعت پراجماع کادعوی صحیح نہیں بلکہ یہ جمہورکامذہب ہےاوراجماع اورجمہورمیں فرق ہےوہ بالکل واضح ہے۔صحابہ میں بھی یہ اختلاف موجودتھا۔بعد میں بھی ظاہریہ عدم جواز کےقائل رہےہیں (نیل الاوطار ۔ج4  صفحہ نمبر10) فقہاء اربعہ میں سےکچھ مخابرہ کوجائزسمجھتےہیں اوررکچھ محاقلہ کو۔ ان حالات میں مزارعت کےجواز پراجماع کےدعوی کوکیسےدرست قراردیاجاسکتاہے؟