کتاب: اسلام میں دولت کے مصارف - صفحہ 109
کی ادائیگی کادستور نہ تھا۔(بخاری کتاب المزارعۃ) تیسری روایت کےمطابق آپ ؓ اپناخیال پیش فرماتےہیں کہ جہاں تک سونےچاندی سےکرایہ کی ادائیگی کاتعلق ہےتواس میں کوئی حرج نہیں۔(بخاری ۔ کتاب المزارعۃ ۔ باب کراء الارض بالذھب والفضۃ) اورچوتھی روایت میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےمزارعت سےمنع کیااورمواجزۃ(یعنی روپےنقدی پرکرایہ پردینے)کاحکم دیا۔(مسلم ایضا) تنقید: مندرجہ بالا روایات اگرچہ صحیح ہیں تاہم معلوم ایساہوتا ہےکسہ جب تحقیق کی نوبت آئی توحضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالی عنہ نافع کےساتھ آپ کےپاس گئےتھے۔ا؟گررافع بن خدیج انہیں بھی ایسی ہی توجیہ بتادیتےکہ اس عدم جواز کااصل سبب ناجائز قسم کی شرائط ہیں نہ کہ فعل مزارعت اصلا ناجائز ہےتوشاید عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالی عنہ اپنی زمینوں کوکرایہ پردیناکبھی نہ چھوڑتے۔ رافع بن خدیج رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت تویہ تھی کہ ان کےچچاان کےگھرآئےاورانہوں نےکہاکہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےایسےکام سےروک دیاجس میں ہمارافائدہ تھاتاہم اللہ اوراس کےرسول کاحکم ماننےمیں ہمیں زیادہ فائدہ ہےاب اگران ناجائز شرائط ہی کی بات تھی توان غلط شرائط کوترک کرنےکےبعد زمین سےبٹائی(مخابرہ)اورکرایہ(محاقلہ)دونوں صورتوں میں فائدہ اٹھایاجاسکتا تھاپھر